اکثر ایک سوال پوچھا
جاتا ہے کہ اسلامی اور مسلم حکومت میں کیا
فرق ہے۔بظاہر تو کوئی فرق نظر نہیں آتا مگر دونوں سراسر مختلف ہیں۔
سب سے پہلے
تولفظ حکومت کی تشریح کرنا ضروری ہے۔ حکومت حکم سے ہے، یعنی ایک حاکم جو کہ کسی
مخصوص خطے، علاقے، ادارے یا کسی بھی مفعول پر (جو کہ حدود و قیود کا پابند ہو)
اپنا حکم (فعل) نافذکرتا ہے یا چلاتا ہے وہ اسکی حکومت کہلاتا ہے۔
اب اگر کسی
ملک یا ریاست کے معاملے میں دیکھا جائے تو بلاشبہ یہ آسمان و زمیں اور جو کچھ ان
کے درمیان ہے سب صرف اور صرف اللہ رب العالمین کا ہی ہے اور وہی اسکا تنہاحاکم ہے
اور اسکی حکومت اسی کے لیے ہے۔
حکومت کے
احکامات اسکے قوانین ہوتے ہیں اور حکومت اسی کی ہو گی جو قانون بنانے اور انہیں
لاگو کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اگر ایک
ریاست میں ایک بادشاہ کو حکمران مقرر کیا جاتا ہے مگر قانون سازی اور نفاذ کا
اختیار اسکو حاصل نہیں تو نہ ہی وہ حکمران ہے اور نہ ہی اسکی وہ حکومت ہے۔
عوام الناس
کو انکے حقوق دینے، انکی جان و مال کا
تحفظ کرنے اور ریاست کے معاملات کو احسن انداز میں چلانے کے لیےقوانین کا جاندار
اور غیرجانبدار ہونا نہایت ضروری ہے۔ تاریخ انسانی پر نظر دوڑائیں تو جب بھی کسی
انسان کو دوسرے انسانوں پر حکومت ملی تو اس نے بلا جھجک دوسروں کے حقوق کا استحصال
کیا اور اپنے خاندان و اہل و عیال کو مراعات سے مستفید کیا اور خود بھی خوب عیاشی
کی۔ حکمران جتنا بھی صالح اور انصاف پرور ہو، شخصی حکومت کی سب سے بڑی خامی ہی یہی
ہے کہ حاکم مطلق العنان ہوتا ہے اور کسی کو جواب دہ نہیں ہوتا۔
اسلام کی
آمد کے ساتھ ہی جہاں ضلالت و گمراہی کے بادل چھٹ گئے وہاں انسانوں کے معاملات کو
چلانے کے لیے ایک ایسی حکومت کا تصور دیا گیا جس میں تمام قوانین و دیگر معاملات
میں حاکم(خلیفہ) براہ راست اللہ احکم الحاکمین کو جوابدہ ہو گا اور ہر طرف عدل و
انصاف کا بول بالا ہو گا، ہر انسان کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور قوم کا
سربراہ قوم کا خادم ہو گا۔ آسان الفاظ میں کہیں تو اگر سو (100)لوگ ایک حاکم کو جوابدہ ہیں تو وہ حاکم
اپنے ہر کام میں ان سو کے سو کو جواب دہ ہے۔
میرے خیال
میں اسلامی حکومت یا مسلم حکومت کے تصور کی وضاحت کرنے کے لیے کسی تفصیلی وضاحت کی اب ضرورت نہیں، بس اتنا
کہنا کافی ہو گا کہ جب کوئی مسلمان حاکم حکومت قائم کرے اور قوانین اور حکومت کا
طریقہ کار غیر انسانی و غیر اسلامی ہو تو وہ مسلم حکومت تو ہو سکتی ہے مگر اسلامی
حکومت نہیں ہو سکتی۔ اسلامی حکومت وہ ہو گی جس میں اللہ کے بندوں پر اللہ کے
قوانین نافذ ہوں گے اور حاکم بھی ان قوانین کا پابند ہو گا۔
نادانؔ
No comments:
Post a Comment