Tuesday, 1 September 2015

اب خوش ہو؟

کراچی کے ایک نجی سکول کے بچے اور بچی نے جنکی عمریں بمشکل سولہ اور سترہ سال کے لگ بھگ تھیں اپنی زندگیاں ختم کر لیں!
دونوں آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے اس عمر میں کہ جس عمر میں نام نہاد لبرلوں اور روشن خیالوں ہی کے مطابق بچوں کو شادی کا لفظ بھی لکھنا نہیں آتا!
ڈرامہ نگارو! گلوکارو! اداکاروں! ان سب کے پردہ دارو! حمایتکارو!
تم جو ہماری نسل کو تیاہ کرنے میں پیش پیش ہو!
ارے سن لیا تم نے؟ اب خوش ہو تم؟ پڑ گئی تمہارے کلیجے میں ٹھنڈ؟
دو اور ماؤں کی گودیں اجڑوا دیں! دو باپوں کے سروں میں خاک ڈلوا دی! صرف دو خاندانوں کا نہیں ظالمو! تم نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا!
ہاں تم ہی سے مخاطب ہوں! تم جو عشقیہ ڈرامے بناتے ہو! ہماری قوم کے نونہالوں کو اپنی نام نہاد روشن خیالی کا زہر پلاتے ہو! انہیں فلمیں بنا بنا کر دکھاتے ہو! انہیں غلیظ گانے سنواتے ہو! تعلیمی اداروں میں انکی معصوم جوانیوں کا استحصال کرتے ہو!
سن رہے ہو ناں؟ 
اب تم کیوں سنو گے! تمہیں تو بس سنانا آتا ہے! قوم کو غلاظت دکھانا آتا ہے! تم ہی سکھاتے ہو ناں بچوں کو کہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر محبت کیسے کرتے ہیں!
ارے یہ کونسی محبت ہے جو تم انکو سکھاتے ہو؟
ماں کی محبت کا کیا؟ باپ کی محبت کہاں؟ بہن بھائیوں کا پیار کدھر؟
آخر یہ کس نسل کی محبت ہے جو تم نے ہمارے بچوں کے اذھان میں گھسا دی ہے ظالمو؟َ
اب خوش ہو تم؟ مر گئے وہ! حرام موت مر گئے! اور یہ سوچ کر مر گئے کہ اگلے جنم میں ہم ساتھ ہوں گے!
کونسا جنم؟ کیسا جنم؟ 
جو آخرت میں ہوگا؟
ہاں وہی جنم! یاد رکھو میرے گلشن کے دشمنو! جب وہ جنم ہو گا تو صرف وہ معصوم ہی نہیں بلکہ پوری قوم تمہارا گریبان پکڑے گی اور تب ہم تم سے پوچھیں گے کہ ترقی دشمن تم تھے یا ہم؟ ملک دشمن تم تھے یا ہم؟ انسانیت دشمن تم تھے یا ہم؟
تم نے اس قوم میں مخلوط تعلیم کا زہر پھیلایا! اس قوم کو فحاشی کے نشے پر لگایا!
اور یہ بیچارے معصوم تمہارے پھیلائے ہوئے جال میں ایسے پھنسے کہ اپنے ساتھ اپنے ماں باپ اور پورے کے پورے خاندانوں کی زندگیوں کو اجاڑ گئے!
اب خوش ہو ناں؟
خوش ہو تم لبرلو! روشن خیالو! مغربی تہذیب کے اسیرو!
اگر نہیں ہو تو اب ہو جاؤ خوش۔ تمہارا مشن پورا ہوا اور تمہاری تنخواہ حلال ہوئی!
۔
۔
طلحہ شہادت نادانؔ


Sunday, 21 June 2015

بِگ بِنگ تھیوری اور قرآن

بگ بینگ ہو یا اس جیسی کوئی اور سائنسی تھیوری،  کبھی بھی مطلق (Definite)  نہیں ہوتی۔میرے ایک نہایت قابلِ احترام استاد علی عمران بخاری صاحب نے ایک بار مجھے کہا تھا کہ کسی بھی  سائنسی تحقیق  (Scientific Research)  کے معیار پر قرآن کو کبھی نہ پرکھنا،  اُس تحقیق کو قرآنی کسوٹی پر رکھ کر دیکھنا کہ وہ قرآنی تعلیمات و انکشافات سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے،  جس قدر قرآن اُسکی تائید کرے بس اسی قدر اسکو ماننا۔ سائنس ہمیں مفروضے   (Theories)  دیتی ہے جبکہ قرآن کا فرمان اٹل ہوتا ہے اور قانون  (Law)  کا درجہ رکھتا ہے۔  تھیوری آف بِگ بِینگ آج کے دور میں تخلیقِ کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے حوالے سے جانی جاتی ہے،  قرانِ کریم اس تھیوری کو کس حد تک سپورٹ کرتا ہے، یہ دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سائنٹفک تھیوری اور بالخصوص بِگ بِینگ تھوری کو تفصیلاً سمجھا جائے۔
سائنس کی رو سے لاء اور تھیوری میں بہت زیادہ فرق ہے۔ تھیوری کو کوئی بھی اپنے ذاتی تجربات کی رو سے پیش کر سکتا ہے، لیکن ایک تھیوری کو لاء کا درجہ تب تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کئی ناقدین اسکا تفصیلی جائزہ نہ لے لیں اور کئی سائنسدان اس پر تجربات کر کے اسکو چیک نہ کر لیں۔  یہ  سب کچھ ایک مخصوص سائنسی طریقۂ کار کے تحت ہوتا ہے، جسکی تفصیل کچھ یوں ہے۔
                سائنسی طریقۂ کار  (Scientific Method)  ایک ایسا مخصوص طریقہ کار ہے جو کسی بھی معاملے میں تحقیق کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  جماعت ہشتم (Eighth)  کی سائنس کی کتاب میں اسکی تعریف  (Definition) کچھ  اس طرح ہوتی ہے کہ:
(Scientific Method is a specific method used to search for truth)
                اب   یہ طریقہ مختلف درجات  (Levels)  سے گزرتا ہے۔  سب سے پہلے "مشاہدہ" (Observation)   ہوتا ہے،  جس میں محقق  (Researcher) مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے کسی عمل کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر اسکے بارے میں کوئی رائے قائم کرتا ہے۔  اسکی اس رائے کو "قیاس"  (Hypothesis)   کہا جاتا ہے۔  پھر وہ اسی قیاس کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف "تجربات" (Experiments)   کرتا ہے جن سے حاصل ہونے والے نتائج کی روشنی میں وہ پھر خود ہی ایک "مفروضہ" (Theory)  قائم کر لیتا ہے اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔  پھر مختلف دیگر سائنس دان اس مفروضے کو کافی سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ تجربات  (Experiments)  کی بنیاد پر پرکھتے ہیں،  اور اگر تو رزلٹ (نتیجہ) اس مفروضے کے حق میں آئے اور بار بار آئے تو پھر کہیں جا کر اسکو قانون  (Law)  کادرجہ ملتا ہے، جسکا فیصلہ متعلقہ  شعبہ میں ماہر سائنس دانوں کا ایک پورا بینچ کرتا ہے۔  اس سارے عمل کی پیچیدگی کی وجہ سے ہی آج تک  تھیوریز تو بہت ساری آئی ہیں لیکن لاء بہت کم بن سکے۔  حیاتیات (Biology)  میں صرف دو لاء ہیں، کیمیاء  (Chemistry) میں تین سے پانچ،  طبعیات (Physics) میں دس سے پندرہ اور ریاضی  (Mathematics) میں کوئی بیس سے پچیس قوانین ابھی تک بن پائے ہیں۔ یہاں بننے سے زیادہ مناسب لفظ دریافت ہوگا کیونکہ یہ قوانین تو خالقِ کائنات نے خود ہی اربوں سال پہلے بنا دیے تھے اور کائنات تب سے انہی قوانین کے تحت چل رہی ہے،  انساننے تو بس انہیں دریافت کیا ہے۔
                اب آتے ہیں "عظیم دھماکے کے مفروضے" (Theory of Big Bang)  کی طرف،  اس تھیوری کی تاریخ نئی نہیں ہے اس سے پلے بھی کائنات کی حقیقت کے متعلق مختلف تھوریز آتی رہی ہیں،  لیکن پرانی سب تھیوریز نے صرف یہ بتایا کہ کائنات کیسی ہے، کس حالت میں ہے، کسی نے بھی اسکی ابتداء کی جانب اشارہ نہیں کیا۔   بنیادی طور پر یہ ایک ہی  تخلیقِ کائنات کے متعلق تھیوری ہے جو کہ صدیوں کے فکری ارتقاء کے بعد آج ہمارے سامنے "بِگ بِینگ تھیوری" کی شکل میں موجود ہے۔
                اسکو مختصراً بیان کرتا ہوں،  پہلےپہل قدیم انسان کا یہ نظریہ تھا کہ زمین اس ساری کائنات کا مرکز ہے جبکہ باقی سارے اجرامِ فلکی (سورج، چاند، ستارے) اسی کے گرد گردش کر رہے ہیں،  "ارسطو"  کا بھی یہی نظریہ تھا۔  اسکے بعد یونان میں ہی "فیثاغورث " نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین اسکے گرد گردش کر رہی ہے۔  پھر "بطلیموس" نے آکر دوبارہ ارسطو کے نظریہ کو زندہ کیا اور فیثاغورث کا رد کر دیا،  ایک طویل عرصہ تک سائنس اسی نظریے کو درست مانتی رہی۔ اسکے بعد اندلس (مسلم اسپین) کے ایک سائنسدان" زرقالی" (Arzachel) نے  1080ء میں زمیں اور سورج دونوں کے محوِ حرکت  ہونے کا نظریہ پیش کیا،  اسکاکہنا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور سورج بھی اپنے راستے پہ رواں دواں ہے جو کہ نامعلوم ہے،  تو لہٰذاان دونوں میں سے کوئی بھی مرکزِ کائنات نہیں۔ اسکے بعدیورپ میں کوبرنیکس،   ٹیکو براہی ،     گیلیلو،  کیپلر اور نیوٹن جیسے مشہور سائنسدان آئے ، لیکن پھر بھی وہ  سورج ہی کو کائنات کا مرکز قرار دیتے رہے،  گو کہ گیلیلو  یہ دریافت کر چکا تھا کہ اس کائنات میں ہمارا نظام شمشی ایک کہکشاں کا حصہ ہے اور اس کائنات میں اس کہکشاں جیسی لاتعداد کہکشائیں موجود ہیں،  لیکن نیوٹن تک اہلِ یورپ اسی بات کے قائل رہے کہ سورج بہر حال ساکن ہے،  اور یہ کائنات بھی حالتِ سکون میں ہے، اور یہ ہمیشہ سے اسی حالت میں ہے۔
                بالآخر بیسویں صدی میں آئن اسٹائن نے آکر نظریۂ اضافیت  (Theory of Relativity)  پیش کیاجسکی رو سے کائنات میں موجود تمام مادہ  (Matter)  درحقیقت انرجی  (Energy)  سے وجود میں آیا ہے اور مادہ اور انرجی ایک دوسرے میں تبدیل  (Convert) ہو سکتے ہیں۔ اسمیں حرکت اور رفتار کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔  اسنے نیوٹن کے نظریہ جمودِ کائنات کا تو رد کر دیا لیکن خود اسکے مقابلے میں کوئی نیا تصور دینے سے قاصر رہا ۔    1929ء  میں ایڈون ہبل نے پہلی بار یہ مفروضہ پیش کیا کہ کائنات غیر جامد  اور متغیر ہے اور حرکت پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل پھیل بھی رہی ہے،  جس سے یہ اور وسیع ہو رہی ہے،  اسکی یہی تحقیق بِگ بِینگ تھیوری کی بنیاد بنی۔ کائنات کے اس مسلسل پھیلاؤ نے سائنس دانوں کو اس پھیلاؤ کی وجہ جاننے کے لیے اکسایا اور ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگز، ڈاکٹر جارج ایلیس اور ڈاکٹر راجر پینروس نے 1970 – 1968 کے عرصے میں گزشتہ سب تھیوریز کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیق کی اور یہ نتائج اخذ کیے کہ اس پھیلاؤ کا سبب ایک عظیم دھماکہ ہو سکتا ہے جو کہ آج سے تقریباً 15 ارب سال پہلے ہوا، یہی بِگ بِینگ تھیوری ہے۔
                سادہ الفاظ میں بِگ بِینگ تھیوری یہ کہتی ہے کہ اس کائنات میں موجود تمام کا تمام مادہ  (Matter) ایک اکائی  (Singularity) سے وجود میں آیا ہے، سب کچھ پہلے ایک انتہائی چھوٹے ذرے  "مختصر ترین کائناتی انڈے" (Minute Cosmic Egg)  کی شکل میں تھا،  جو کہ پھٹا جس سے انتہائی زیادہ انرجی نکلی،  اور اس انرجی سے پھر آہستہ آہستہ کائنات کا سارا مادہ بنا۔ اب یہ پھٹا کیوں اور کس نے پھاڑا،  یہ غیر حل شدہ سوال تو اس تھیوری میں بھی موجود ہے،  بہر حالی یہ تھیوری اتنا ضرور کہتی ہے کہ اس ذرے سے قبل کسی بھی چیز کا وجود نہیں تھا،  یعنی ساری کی ساری کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے۔
                اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ کریم اس بارے میں کیا کہتا ہے:
سب سے پہلے تو سورۃ الانبیاء،  آیت نمبر 30
أولم ير الذين كفروا أن السماوات والأرض كانتا رتقا ففتقناهما وجعلنا من الماء كل شيء حي أفلا يؤمنون*
ترجمہ:" کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہےغور نہیں کرتےکہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے،  پھرہم نے اِنہیں جدا کیا۔  اور پانی سے ہرزندہ چیز پیدا کی،  کیاوہ (ہماری اِس خلاقی کو) نہیں مانتے؟"۔
اس آیتِ کریمہ میں دو الفاظ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، "رتق"  کے معنی ہیں کسی جیز کو باہم ملے یا بندھے ہونے کے اور  "فتق" کے معنی ہیں کسی چیز کو جدا کرنے، توڑنے یا الگ کرنے کے۔
                 مختلف سائنس دان اس امر کے قائل ہیں کہ اسی ایک چھوٹے سے ذرے میں ہونے والے دھماکے سے ہی اس ساری کائنات کا مادہ نکلا اور مختلف مراحل طے کرتا ہوا موجودہ حالت میں پہنچا۔
ایک اور جگہ ارشادِ پاک ہے کہ:
والسماء بنيناها بأيد وإنا لموسعون*
ترجمہ: اور آسمان کو ہم نے اپنے زور  (قوت/طاقت/انرجی)  سے بنایا ہے اور ہم اسکی قدرت رکھتے ہیں۔
سورۃ الذاریات، آیت نمبر 47
                آسمان سے مراد کوئی تہہ یا ٹھوس چھت نہیں، بلکہ زمین کے اوپر ساری کائنات آسمان ہی تو ہے، اسی رو سے آسمان کو کائنات بھی کہا جا سکتا ہے،  اوریہاں اللہ رب العزت یہی ارشاد فرما رہے ہیں کہ اس سب کو قوت(بے پناہ انرجی)  سے پیدا کیا گیا۔
ایک اور آیتِ کریمہ دیکھیں:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ*
ترجمہ: کہہ دیجئے میں پناہ چاہتا ہوں فلق کے رب کی۔
                عربی گرامر کی رو سے لفظ "فلق" کے متعدد معانی ہیں، فلق کا مطلب ہے کھلنا یا پھٹنا، اب کسی ذرے کا پھٹنا بھی ہو سکتا ہے، کسی جسم کا بھی اور پو (صبح ) کا بھی۔  ہم اگرفلق کو  کسی چیز کو پھاڑ کر کھولنے کےمعنی میں لیں تو ایک اور آیتِ کریمہ اس کی تائید کرتی ہے۔ جس میں ارشاد ہے:
إن الله فالق الحب والنوى*
ترجمہ: بے شک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔
                اب اگر دیکھیں تو فلق امر / فعل ہے اور فالق  امر کرنے والا/ فاعل۔  اس معنی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسی چھوٹے سے ذرے کو پھاڑ کر اللہ رب العزت نے کائنات کی تخلیق کی۔
                اسکے علاوہ کافی عرصہ پہلے "مولانا اختر حجازی ؔ"کی لکھی ہوئی "قصص الانبیاء "  پڑھی تھی،  اس میں کائناتکی تخلیق ایک چھوٹے سے ذرے سے ہونے کے بارے میں کچھ روایات "بیان تخلیقِ کائنات" کے باب میں موجود تھیں۔  اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت مجھے بِگ بِینگ تھیوری کی الف بے بھی نہیں آتی تھی۔  فی الوقت کسی ذریعے کی عدم دستیابی کے باعث میں احدیثِ مبارکہ سے اس بارے میں کوئی روایت پیش نہیں کر سکتا۔
                الغرض میں قرآنِ کریم کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے اس تھیوری کو باقی تھیوریز سے معتبر  ضرور مانتا ہوں لیکن مطلق ہرگز نہیں مانتا،  کیونکہسائنس کی رائے ہر روز بدلتی ہے،  تویہ بھی ممکن ہے کہ کل کوئی اور سائنسدان اپنے زیادہ قوی دلائل پیش کر کے اس تھیوری کا رد کر دے اور کوئی نئی تھیوری دے دے۔  مگرتب تک،  بِگ بِینگ کو کسی حد تک تسلیم تو کیا جا سکتا ہے۔
۔
۔
تحریر: طلحہ شہادت

Wednesday, 10 June 2015

نفرتیں مت بانٹو

            مملکتِ خداداد پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں گزشتہ روز پیش آنے  والی اندوہ ناک واقعے نے ملک بھر کے طلباء و طالبات اور انکے والدین کو نہ صرف پریشانی میں  مبتلا کر دیا ہے بلکہ اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں غیر محفوظ ہونے کا احساس بھی انکے سروں پر سوار ہو گیا ہے۔
            ہوا کچھ یوں کہ وقافی اردو یونیورسٹی اسلام آباد  میں لسانی بنیادوں پر بننے والی دو طلباء تنظیمیں آمنے سامنے آئیں اور تلخی اس قدر بڑھی کہ بات ہتھیاروں کے استعمال تک جاپہنچی۔ آخری اطلاعات کے مطابق  12 یا 14 طلباء زخمی ہیں اور ایک بے چارہ زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔ جبکہ گرفتارشدگان کی تعداد بھی 30 سے متجاوز ہے۔
            واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ دو طالبعلموں میں آپسی تنازعہ جو ہوا اسکی بنیادی وجہ ایک طالبہ سے تعلقات تھے۔ اب وہ کس کے تھےکتنے تھے اور کیوں تھے یہ تو خدا بہتر جانے۔ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے اُن دونوں طالب علموں نے اپنی اپنی نسل کے لوگوں کو آواز دی اور جاہلیت کے ٹھیکے داروں نے اپنے اپنے بندے کے پیچھے کئی ماؤں کے لعلوں کو اذیت سے دوچار کر دیا۔
            مقامِ عبرت ہے یہ ہمارے اُن سب پاکستانی بھائیوں کے لیے جو اب تک نسلی تعصبات سے چھٹکارا نہیں پاسکے اور مقامِ شرم و غیرت ہے ان مفاد پرست صاحبانِ اقتدار اور نظامِ تعلیم کے نام نہاد ٹھیکے داروں کے لیے جو ابھی تک نہ تو خود ہمارے نظامِ تعلیم کو اِن سب خرافات سے پاک کر سکے اور نہ ہی خیرخواہوں کو کام کرنے کی اجازت دی۔ نسلی منافرت کو ہوا دینے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں کسی بھی قسم کے تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اپنے فانی دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ یہ سب کرتے بھی ہیں اور دوسروں میں بھی نسل پرستی کو فروغ دیتے ہیں۔
            حضرت جابر بن عبداللہ  رض روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں تھے اور ابوسفیان رض نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کو مارا، انصاری نے پکار کر کہا کہ اے جماعتِ انصار! اور  مہاجر نے پکار کر کہا کہ اے جماعتِ مہاجرین!
رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ایک مہاجر نے ایک انصاری  کو مارا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑو یہ برا کلمہ ہے۔
صحیح بخاری: جلد دوم: باب: جاہلیت کی طرح گفتگو کرنے کی ممانعت۔
            اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو نسل پرستی جاہلیت کے طریقوں میں سے ہے۔ اور اپنی نسل کے نام پر کسی سے ناجائز لڑنا تو جاہلیت کی انتہا۔ پھر اگر اعلٰی تعلیمی اداروں میں نوجوان گھٹیا امور پر ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں ہو جائیں تو پر اِس قوم کی حالتِ زار کا ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے۔
            ہمارے اعلٰی تعلیمی اداروں میں ملک کے مختلف کونوں سے مختلف نسلوں  اور مسلکوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے طلباء و طالبات آتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو مستقبل میں ملک کی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بھی بنتے ہیں او ر معاشرے کے کارآمد افراد بن کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک شخص اپنی تعلیمی زندگی جن رجحانات کے تحت گزارتا ہے وہی رجحانات پھر اسکی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور اسکی بقیہ ساری زندگی انہی کے گرد گھومتی ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور گروہ بنا کر رہنا انسانی فطرت کا لازمی جزو ہے۔ جب یہ طلباء    اپنے اداروں میں پہنچتے ہیں تو وہاں موجود اپنے جیسے دیگر طالبعلوں کو ساتھ ملا کر اکثر گروہ بندی کر لیتے ہیں اور یا پہلے سے موجود کسی گروہ یا تنظیم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
            مختلف طلباء تنظیمیں ہمارے ملک میں موجود ہیں،  کوئی نسل پرستی کا داعی ہے اور کوئی مسلک پرستی کا پرچارک، کوئی اپنی زبان کا لوہا منوانا چاہتا ہے اور کوئی اپنے فرقے یا اپنی قوم کو سربلند کرنا چاہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کچھ ایسے ملک و ملت کے وفادار بھی موجود ہوتے ہیں جنکا نظریہ صرف اسلام اور جنکی پہچان صرف پاکستان ہوتی ہے۔ ایسے طلباء کے گروہ کو منظرنامے پر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہی جمعیت ہے جسکے پیش رو ملک کے تعلیمی اداروں میں اللہ کے دین کا پرچم بلند رکھنے اور پاکستانی قوم کو اسی پرچم کے سائے تلے متحد رکھنے کا عزم لے کر اٹھے تھے اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے  عزم و استقلال کی ایسی مثالیں رقم کر گئے کہ آج بھی اسلامی جمعیت طلبہ میں کسی بھی قسم کی لسانی، نسلی، قومی، مسلکی، گروہی یا سیاسی منافرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان  جس بھی رنگ یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں، جو بھی زبان بولتے ہوں۔ انکی دعوت صرف اور صرف اللہ کی بندگی، اسکے رسولﷺ کی اطاعت اور اسکے کلمہ کے نام پر قائم ملک پاکستان سے محبت ہی کی دعوت ہوتی ہے۔
            مگر افسوس، صد افسوس کہ ہمارے اربابِ اقتدار اس سب کو جانتے  ہوئے بھی، جمعیت کی اسلام اور پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں سے آگاہ ہونے کے باوجود ہمیشہ اِسکی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے یا اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے ملک و قوم کا ناقابلِ تلافی نقصان کرتے ہیں۔  وفاقی اردو یونیورسٹی میں جو کچھ بھی ہوا، اسکے براہ راست ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان نسل پرست گروہوں کو پہلے بننے اور پھر وہاں رہنے دیا۔   اور برابر کے ذمہ دار ہیں ہمارے وہ نہایت ہی قابل احترام استاد جنہوں نے پہلے پہل قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جمعیت کے مقابل ان نسل پرست گروہوں کو مضبوط کرنے کی روایت کی بنیاد ڈالی۔
            آج ایسا ہر گز نہ ہوتا اگر یہی طلباء نسلی یا لسانی بنیادوں کو چھوڑ کر اسی ایک بنیاد پر جمع ہوتے جس بنیاد پر پاکستان بنانے کے لیے برصغیر کے کروڑوں  مسلمان جمع ہوئے تھے۔ اور وہ بنیاد صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام ہی ہماری اصل بنیاد ہے اور اسی پر عمل میں ہمارے ملک و قوم کی ترقی کا راز مضمر ہے۔
اقتدار کی مسندوں پر بیٹھے اے صاحبانِ اختیار!
            خدارا باز آجاؤ اس روش سے۔ اس قوم کو ایک ہونے دو۔ اور نفرتیں مت بانٹو، نفرتیں مت بانٹو۔

تحریر: طلحہ شہادت

Saturday, 25 April 2015

مہاجر اور مہاجرازم


آج اس جبھتے ہوئے موضوع پر قلم اٹھانے کا ارادہ کیا ہے۔ بلاشبہ قوم پرستی کا ناسور ہمارے ملک کی جڑوں کو دن بہ دن کھوکھلا کر رہا ہے۔ قوم پرستی یا نسل پرستی کسی بھی ریاست میں معاشی، معاشرتی اورسیاسی استحکام کے لیے حد درجہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ قوم نظریے سے بنتی ہے، کوئی رنگ کی بناء پر قوم کی تعریف کرتا ہے اور کوئی نسل، زبان، خطے،ملک یا کسی مخصوص طبقے کو قوم سمجھتا ہے۔ شاعرِ مشرق کی نظر میں قوم مذہب سے بنتی ہے۔
ہمارے ملک میں اتنے شہر نہیں جتنی یہاں قومیں بن چکی ہیں۔ اور ہر طبقے نے اپنی الگ پہچان حاصل کرنے اور مخصوص مفادات کے حصول کے لیے اپنا اپنا نعرہ اور تنظیم  بنا لی ہے۔ ایسے میں ایک قوم "مہاجر" کا نام بھی لیا جاتا ہے جسکا تقسیمِ برصغیر سے قبل کوئی وجود نہیں تھا۔
مہاجر کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے والے کو کہتے ہیں اور ہجرت کا معنی ہے کسے ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی خواہش یا کسی مجبوری کی وجہ سے منتقل ہو کر وہاں مستقل سکونت اختیار کر لینا۔مہاجر اور مسافر میں یہی فرق ہے کہ مسافر کا قیام اپنی منزل پہ عارضی ہوتا ہے جبکہ مہاجر کا مستقل۔ اور سفر یا ہجرت کرنے والے کو تو مہاجر یا مسافر کہا جاتا ہے، کیونکہ فعل سے صرف فاعل کا تعلق ہوتا ہے اور یا مفعول کا، لیکن اسکے خاندان، اسکے عیال اور اسکی نسل کے کسی بھی فرد سے اسکے فعل کو منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ سے کچھ مثالیں دیتا ہوں، حضرت آدم علیہ السلام، جنت سے زمین پر ہجرت کی، اب انکی نسل زمین پر آباد ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام عراق سے مکہ ہجرت کی، بعد میں انکی نسل وہاں آباد ہوئی،۔ اسکے علاوہ مختلف قومیں جنہوں نے ہجرت کی، برصغیر میں آنے اور یہاں صدیوں حکومت کرنے والے آریا، مشرقِ وسطٰی سے آئے تھے۔ خراسان (افغانستان) میں رہنے والی پختون قوم (جو کہ آلِ ھارون علیہ السلام ہے ) وہ فلسطین سے آئے۔ برصغیر میں بسنے والے سادات، عربی النسل ہیں اور انکے آباء سے عرب سے آکر یہاں سکونت اختیار کی تھی۔ اور موجودہ جدید دنیا سے اگر مثال لیں تو سب سے بڑی مثال امریکہ، وہاں کے اکثریتی باشندوں کے اجداد نے دنیا کے مختلف خطوں سے وہاں ہجرت کی، آسٹریلیا اور نیو زیلینڈ کے لوگ انگلستان سے آئے اور اسکے علاوہ بھی مخلف افریقی ممالک میں بہت سفید فام آباد ہیں جنکے آباء ہرگز افریقی نہیں تھے۔ اب اصولا یہ سب لوگ مہاجر نہیں کہلاتے اور نہ ہی کہلا سکتے ہیں کیونکہ یہ سب فاعلین نہیں ہیں۔ انکے بڑے فاعلین تھے اور وہ مہاجرین تھے۔ ان سب مثالوں میں کہیں بھی مہاجر قوم کا  سراغ نہیں ملتا۔
پاکستان میں موجود جن لوگوں کو مہاجر کہا جاتا ہے انکے آباء و اجداد نے اپنے گھر، جائیدادیں، رتبے اور معاشرے میں اپنے مقامات، سب کچھ چھوڑ دیا اور ایک ہی خطے کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر کو ہجرت کی کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہندوستانی قوم سے منفرد اور ممتاز ہیں اور اسی امتیاز کی وجہ سے انہیں ایک الگ رقبے پر اپنی مملکت قائم کرنی ہے اور وہاں رہنا ہے۔ میرے اپنا ددھیال بھارت کے شہر لدھیانہ اور ننھیال بھارتی شہر انبالہ سے اٹھے اور اللہ کے آسرے پہ "پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ" کا نعرہ لگاتے ہوئے چل دیے۔ راستہ طویل ضرور تھا مگر ہمت بلند تھی، زادِ راہ اگرچہ میسر نہیں تھا لیکن حوصلے پھر بھی جوان تھے۔ میں نے اپنے بزرگوں سے جو سنا ہے اسکے مطابق ننھیال اور ددھیال میں سے دورانِ ہجرت شہید ہونے والوں کی تعداد 55-45 ہے۔ اب جب وہ لوگ لٹے پٹے یہاں پہنچےتو انکے پاس اپنی ناتواں جانوں اور تواناں حوصلوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ ہجرت کر کے آنے والے جب سنتے تھے کہ وہ پاکستان کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں تو فورا سجدوں میں گر جاتے تھے اور اپنے رب کا شکر اد کرتے تھے، باوجود اسکے کہ انکے کئی پیارے یا تو مارے جا چکے ہوتے تھے اور یا اغواء کیے جا چکے ہوتے تھے۔ تھوڑی دیر کے لیے آنکھوں بند کیجئے اور خود کو تصور کیجئے اس ماں کی جگہ جسکے لختِ جگر کی شہہ رگ اسکے سامنے کاٹ دی گئی ہو،  اس باپ کی جگہ جسکی جواں بیٹی کے جسم کو اسکے سامنے ظالم درندوں نے نوچا ہو۔ اس بیوی کی جگہ جسکی آنکھوں نے اپنا سہاگ  اجڑتا دیکھا ہو، اس بہن کی جگہ جسکے سامنے اسکے جوان بھائی کے جسم کے ٹکڑے کر دیے گئے ہوں اور اس بھائی کی جگہ جو بے بسی سے اپنی بہن کو عزت پامال ہوتے دیکھتا رہا۔  یہ سب مفروضے نہیں! تاریخی حقائق ہیں۔ اُن سب لوگوں نے اتنا سب کچھ سہا اور بردوشت کیا صرف اس آس پر کہ اب وہ جس ملک میں جا رہے ہیں وہاں یہ سب جھیلنا نہیں پڑے گا، انکی جان و مال کو امان ہوگی اور انکو دکھلائے گئے خواب وہاں پورے کیے جائیں گے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ یہاں پہلے سے بسنے والے افراد نے جہاں مہاجرین کو خوش آمدید کہا اور انکی مدد کی تو ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے اُن مجبوروں کی مجبوریوں سے جی بھر کر فائدہ اٹھایا۔ خاندان کی ایک بزرگ خاتون کے بارے میں سنا ہے کہ وہ وہاں سے نکلتے وقت جتنا ہو سکا اتنا زیور اپنے ساتھ اپنے لباس میں چھپا کر لے آئیں تھیں۔ لیکن یہاں آکر ایسا ہوا کہ ایک ایک روٹی کے لیے انکو ایک ایک گہنا دینا پڑا۔ یعنی اگر گھر والوں کو آٹا چاہیے تو چوڑیاں دے کر آٹا لے لیا، اور کسی چیز کی ضرورت ہے تو کوئی اور سونے کا گہنا دے کر لے لی۔ غرض کچھ مفاد پرست عناصر نے مہاجر کیمپوں میں بھی لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔
خدا خدا کر کے وقت گزرتا رہا، مختلف نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد آج زندگی اس مقام پر کھڑی ہے کہ اُن مہاجروں کی تیسری نسل اِس دھرتی پر جوان ہو چکی ہےلیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ آج بھی انکی پہچان وہی ہے، یعنی "مہاجر"۔ زیادہ تر مہاجرین پنجاب اور سندھ میں آئے تھے۔ پنجاب میں آنے والوں میں سے زیادہ تر کی مادری زبان تو پنجابی ہی تھی جسکی وجہ سے ان میں اور یہاں کے مقامی افراد میں فرق کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ جبکہ سندھ میں اور پنجاب کے کچھ حصوں میں آکر بسنے والے ایسے افراد جن کی زبان اردو، بہاری یا کوئی تیسری تھی، وہ لوگ آج بھی اپنا الگ لسانی تشخص رکھتے ہیں۔ اور اپنی ایک الگ زبان رکھنا کوئی برائی نہیں۔ یہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کو جیسے چاہے گزارے۔ لیکن ان پیچاروں کو یہاں کے لوگوں میں سے کچھ مفاد پرست عناصر نے قبول نہیں کیا اور لسانیت کو بلا وجہ ہوا دی، دوسری جانب کچھ شر پسند عناصر نے مہاجریں کے اندر بھی ایک الگ قوم ہونے کا جذبہ ابھارنا شروع کر دیا اور یوں مہاجر قوم پرستی کا ایک ایسا  اژدھا نمودار ہوا جو کہ صرف ایک شہر کراچی میں ہی سینکڑوں انسانی جانیں نگل چکا ہے۔
ایک بے بنیاد مسئلہ! آخر کب تک ہماری قوم ایسے مسائل جھیلتی رہے گی! گروہی تعصبات جس قدر زیادہ ہوں گے اتنی جلدی ہی ملی وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی!
میں بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان میں بسنے والے ہر ایک  پاکستانی کو کہ نہ تو میں مہاجر ہوں اور نہ ہی میرے جیسا کوئی اور شخص! پاکستان پہ ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا! ہمارے آباء نے اپنے گھر بار اپنی پہچانیں چھوڑیں صرف اور صرف اس ملک کے لیے اور اب ہماری پہچان اسی ملک سے ہے، یہی ہمارا گھر ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہم سے ہماری پہچان چھین سکے۔ اور اپنے اُن نادان بہن بھائیوں سے بھی گزارش کروں گا جو ابھی تک لفظ "مہاجر" سے چمٹے ہوئے ہیں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں! آپ ہرگز مہاجر نہیں ہیں، یہ آپکا ملک ہے، یہ آپکا گھر ہے، آپ یہیں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں دفن ہونا سے، اور کوئی دوسرا آپ سے بڑا پاکستانی نہیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے ملک کو امن و سلامتی کا گہوارا بنائیں اور ان سب مصائب و آلام سے ہماری قوم کو نجات دلائیں۔ آمین
تحریر: طلحہ شہادت

Thursday, 12 February 2015

Valentine's Day and the True Love

قال قال رسول اللہ ﷺ ۔۔۔
"مَنْ اَحَبَّ لِلہِ وَاَبْغَضَ لِلہِ وَاَعْطٰی لَلہِ وَمَنَعَ لِلہِ فَقَدِاسْتَکمَلَ الْاِیْمَانَ"
Who loved for Allah, hated for Allah, Given for Allah and prevent giving for Allah, thus he completed his Faith.
Western people use to celebrate 14 February as the day of so called Love.
What I observed is that they are failed to find the true Love in their lives.
Like in their childhood, they spend more time with their babysitter then their Mothers.
When they grow up, they prefer to hang out and share their feelings with their friends out there, rather then their real brothers and sisters.
When they begin to earn they left their Fathers and start to live separate.
When they get married they get bored to being with a single person and use to have several illegal relations, i.e., Girl Friends and Boy Friends.
When they have their own children they often humiliate them sexually like we have seen many examples in past.
And when they get old, they are sent to Old Age Homes, because their children don't love them.
And After all this, they Die ALONE.
They spent their whole loves in the obedience of Satan, and being deprived by the Love of their GOD. 
But there is a point!!
They celebrate Valentine's Day every year :)
Every year, with a new Deception.
My dear Brothers and Sisters in Islam. Islam gives us complete guideline that how should we spend our lives.
And when it comes to love someone.
Then Islam tells us that who should we love.
In light of the teachings of our Holy Prophet Muhammad (S.A.W) I have a lot of relations to share love.
Only to seek the happiness of My God, my Creator Almighty Allah.
I love My Father for the sake of Allah.
I love My Mother for the sake of Allah.
I love My Brothers for the sake of Allah.
I love My Sisters for the sake of Allah.
I love My Uncles for the sake of Allah.
I love My Aunts for the sake of Allah.
And I love my every Sister and Brother in Islam for the sake of Allah.
And In sha Allah I will Love My spouse for the sake of Allah when I will get Her ;)
Oh Muslims! Please wake up and get off such deceptions. Don't deceive yourselves.
Because only that Love is true Love which gives you support, peace and care throughout your live.
And My Brothers and Sisters, please prefer to get married then having any Girl Friend or Boy Friend.
Such illegal relations will leave you in this life, but your spouse will be with you in JANNAH In sha Allah.
May Allah show us the righteous path.
اللهم يا مقلب القلوب والأبصار ثبت قلوبنا على دينك
آمین۔
تحریر: طلحہ شہادت
Talha Shahadat​

Wednesday, 11 February 2015

سب جانتے ہوئے بھی انجان بن کے رہنا - غزل

بالکل نئی غزل پیش ہے۔۔۔۔۔۔۔
سب جانتے ہوئے بھی انجان بن کے رہنا
خود اپنے جھونپڑے میں مہمان بن کے رہنا
جب اُن کو اِس شہر میں، نہ جانتا تھا کوئی
مجھے یاد ہے وہ انکی، پہچان بن کے رہنا
میں بے حسی کی انکی، مثال کیا دوں یارو
وہ پتھروں کی طرح، بے جان بن کے رہنا
رسمِ وفا سے جو بھی، ناآشنا ہو لوگو
بےفائدہ ہے اُس پر سلطان بن کے رہنا
ہر اک کے پاس انکی، تعریفیں کرتے پھرنا
پھر خود ہی انکے در پر، دربان بن کے رہنا
نصیب کا تو اپنے، مدارہے عمل پر
خود اپنے ہر عمل کے نگران بن کے رہنا
داناؤں کی سی باتیں نہ مجھ سے ہو سکیں گی
میں نے توایسے ہی ہے، نادان بن کے رہنا
نادانؔ

Sunday, 18 January 2015

شریف بن جاؤں گا - نظم

سوچا ہے اب سے شریف بن جاؤں گا

یعنی کہ شائشتہ انداز تحریر اپناؤں گا

کچھ دوست ناراض ہیں اس بات پہ مجھ سے

کہ آرام سے ہوتی نہیں اک بات بھی مجھ سے

کہتے ہیں تم سے رکھنا یارانہ ہی نہیں

میں بھی کہتا ہوں بھلے کا زمانہ ہی نہیں

بھلا آرام سے بات یہاں سنتا کون ہے

آم کھا کر پیڑ یہاں گنتا کون ہے

غلط ہوتا کچھ دیکھ کر سرپیٹ جا ؤ گے

کوئی نہ سنے گا تو کیا چپ پیٹھ جاؤ گے

بھینس تو ہے بھئ یہاں لاٹھی والے کی

شریف کے لیے ہے بس نوکری گوالے کی

سرکار آپ کی بات سر آنکھوں پہ ہمارے

نیا بوجھ پڑے چاہے کاندھوں پہ ہمارے

آگے سے نہ اب یہ مجال ہم کریں گے

لکھتے دم لہجے کا خیال ہم کریں گے

بے خوابی کی ہمیں جو لگی ہے بیماری

وقت گزاری کے لیے  یہ نظم دے ماری

کچھ شغل کا دل تھا کہ انسان ہیں ہم

غصہ نہ کیجئے گا ، نادان ہیں ہم

شاعر: طلحہ شہادت

Friday, 9 January 2015

میرے کپتان کی شادی ہے

وہ منافق، یہ منافق۔ تو منافق، میں منافق!!

آج کل منافقت کے سرٹیفکیٹ اس طرح بٹ رہے ہیں جیسے کسی دور میں کفر کے فتوے لگا کرتے تھے۔

اور منافقت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ٹاپ پر انصافیز اینڈ کمپنی ہے۔

اور معیارِ منافقت ہر وہ جائز اعتراض ہے جو آپ تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست کو لے کر اٹھائیں۔

ارے بھئی۔ بات وہی ہے۔

"Blind following"

اب جالیہ واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ پہلے پہل جب خان صاحب کی شادی خانہ آبادی کی خبر آئی تو ہماری طبیعت بھی

خوشگوار ہو گئی۔ جلدی سے جا کر گوگل پر بھابھی کی تصویر دیکھی اور صدقے واری کیے۔

(اس سے پہلے ہم نے بھابھی کو نہیں دیکھا تھا)

خوشی خوشی سوشل میڈیا کھولا کہ دوستوں یاروں کو بھی خبر سنائیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں تو جنگ چھڑی ہوئی ہے اور

فیس بک ہو یا ٹویٹر۔ ہر جگہ بھابھی کا نام تک لینا منافق کی نشانیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

خیر تھوڑی دیر بعد خان صاحب کا بھی پیغام آگیا میڈیا پر۔

ایک بات کا اعتراف کرتے ہیں ہم کہ خان صاحب نے انکار نہیں کیا تھا شادی سے۔ بس بات ذرا گھما پھرا دی تھی۔ اور

وقت کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ بات دبی رہے۔

لیکن بھابھی کہاں چپ رہنے والی تھی۔ اسے تو جیسے بنی گالہ ہاتھ سے پھسلتا محسوس ہوا اور جھٹ سے برطانوی میڈیا

کے ڈریعے خبر لیک کر دی۔

پھر خان صاحب کو بھی اسکا اقرار کرنا پڑا اوراب خان کی آئے گی بارات F-11 اور دل والے دلہنیا لے کر ہی جائیں

گے۔

اب اس سارے معاملے میں جب پہلے میرے تحریکِ انصاف والے بھائی بہن ہر اس شخص سے لڑ رہے تھے جو کہتا تھا

کہ شادی ہو چکی۔

تو اب ہر اس شخص سے لڑ رہے ہیں جو کہتا ہے کہ پہلے کیوں لڑ رہے تھے۔

ارے بھئی۔ اگر کوئی آپ کو آئینہ دکھا ہی دیتا ہے تو وہ آپکا دوست ہے، دشمن نہیں۔

اب یہ لڑائی لڑائی بند کرو اور ساتھ میں منافقت کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بھی۔

اور تھوڑا خوش ہو جاؤ۔

آخر میرے بھی تو کپتان کی شادی ہے

نادانؔ