Friday, 9 January 2015

میرے کپتان کی شادی ہے

وہ منافق، یہ منافق۔ تو منافق، میں منافق!!

آج کل منافقت کے سرٹیفکیٹ اس طرح بٹ رہے ہیں جیسے کسی دور میں کفر کے فتوے لگا کرتے تھے۔

اور منافقت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ٹاپ پر انصافیز اینڈ کمپنی ہے۔

اور معیارِ منافقت ہر وہ جائز اعتراض ہے جو آپ تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست کو لے کر اٹھائیں۔

ارے بھئی۔ بات وہی ہے۔

"Blind following"

اب جالیہ واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ پہلے پہل جب خان صاحب کی شادی خانہ آبادی کی خبر آئی تو ہماری طبیعت بھی

خوشگوار ہو گئی۔ جلدی سے جا کر گوگل پر بھابھی کی تصویر دیکھی اور صدقے واری کیے۔

(اس سے پہلے ہم نے بھابھی کو نہیں دیکھا تھا)

خوشی خوشی سوشل میڈیا کھولا کہ دوستوں یاروں کو بھی خبر سنائیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں تو جنگ چھڑی ہوئی ہے اور

فیس بک ہو یا ٹویٹر۔ ہر جگہ بھابھی کا نام تک لینا منافق کی نشانیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

خیر تھوڑی دیر بعد خان صاحب کا بھی پیغام آگیا میڈیا پر۔

ایک بات کا اعتراف کرتے ہیں ہم کہ خان صاحب نے انکار نہیں کیا تھا شادی سے۔ بس بات ذرا گھما پھرا دی تھی۔ اور

وقت کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ بات دبی رہے۔

لیکن بھابھی کہاں چپ رہنے والی تھی۔ اسے تو جیسے بنی گالہ ہاتھ سے پھسلتا محسوس ہوا اور جھٹ سے برطانوی میڈیا

کے ڈریعے خبر لیک کر دی۔

پھر خان صاحب کو بھی اسکا اقرار کرنا پڑا اوراب خان کی آئے گی بارات F-11 اور دل والے دلہنیا لے کر ہی جائیں

گے۔

اب اس سارے معاملے میں جب پہلے میرے تحریکِ انصاف والے بھائی بہن ہر اس شخص سے لڑ رہے تھے جو کہتا تھا

کہ شادی ہو چکی۔

تو اب ہر اس شخص سے لڑ رہے ہیں جو کہتا ہے کہ پہلے کیوں لڑ رہے تھے۔

ارے بھئی۔ اگر کوئی آپ کو آئینہ دکھا ہی دیتا ہے تو وہ آپکا دوست ہے، دشمن نہیں۔

اب یہ لڑائی لڑائی بند کرو اور ساتھ میں منافقت کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بھی۔

اور تھوڑا خوش ہو جاؤ۔

آخر میرے بھی تو کپتان کی شادی ہے

نادانؔ

No comments: