بگ بینگ ہو یا اس
جیسی کوئی اور سائنسی تھیوری، کبھی بھی
مطلق (Definite)
نہیں ہوتی۔میرے ایک نہایت قابلِ احترام استاد علی عمران بخاری صاحب نے ایک
بار مجھے کہا تھا کہ کسی بھی سائنسی
تحقیق (Scientific Research)
کے معیار پر قرآن کو کبھی نہ پرکھنا،
اُس تحقیق کو قرآنی کسوٹی پر رکھ کر دیکھنا کہ وہ قرآنی تعلیمات و انکشافات
سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے، جس قدر قرآن
اُسکی تائید کرے بس اسی قدر اسکو ماننا۔ سائنس ہمیں مفروضے (Theories) دیتی ہے جبکہ قرآن کا فرمان اٹل ہوتا ہے اور
قانون (Law)
کا درجہ رکھتا ہے۔ تھیوری آف بِگ
بِینگ آج کے دور میں تخلیقِ کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے حوالے سے جانی جاتی
ہے، قرانِ کریم اس تھیوری کو کس حد تک
سپورٹ کرتا ہے، یہ دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سائنٹفک تھیوری اور بالخصوص بِگ
بِینگ تھوری کو تفصیلاً سمجھا جائے۔
سائنس کی رو سے لاء
اور تھیوری میں بہت زیادہ فرق ہے۔ تھیوری کو کوئی بھی اپنے ذاتی تجربات کی رو سے
پیش کر سکتا ہے، لیکن ایک تھیوری کو لاء کا درجہ تب تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کئی
ناقدین اسکا تفصیلی جائزہ نہ لے لیں اور کئی سائنسدان اس پر تجربات کر کے اسکو چیک
نہ کر لیں۔ یہ سب کچھ ایک مخصوص سائنسی طریقۂ کار کے تحت ہوتا
ہے، جسکی تفصیل کچھ یوں ہے۔
سائنسی
طریقۂ کار (Scientific Method)
ایک ایسا مخصوص طریقہ کار ہے جو کسی بھی معاملے میں تحقیق کرنے کے لیے
استعمال کیا جاتا ہے۔ جماعت ہشتم (Eighth)
کی سائنس کی کتاب میں اسکی تعریف (Definition) کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ:
(Scientific Method is a specific method used to search for
truth)
اب یہ
طریقہ مختلف درجات (Levels)
سے گزرتا ہے۔
سب سے پہلے "مشاہدہ" (Observation) ہوتا ہے،
جس میں محقق (Researcher) مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے کسی
عمل کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر اسکے بارے میں کوئی رائے قائم کرتا ہے۔ اسکی اس رائے کو "قیاس" (Hypothesis) کہا جاتا ہے۔
پھر وہ اسی قیاس کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف "تجربات" (Experiments)
کرتا ہے جن سے حاصل ہونے والے نتائج کی روشنی میں وہ پھر خود ہی ایک
"مفروضہ" (Theory) قائم کر لیتا ہے اور اسے دنیا کے سامنے پیش
کرتا ہے۔ پھر مختلف دیگر سائنس دان اس
مفروضے کو کافی سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ تجربات (Experiments)
کی بنیاد پر پرکھتے ہیں،
اور اگر تو رزلٹ (نتیجہ) اس مفروضے کے حق میں آئے اور بار بار آئے تو پھر
کہیں جا کر اسکو قانون (Law) کادرجہ ملتا ہے، جسکا فیصلہ متعلقہ شعبہ میں ماہر سائنس دانوں کا ایک پورا بینچ
کرتا ہے۔ اس سارے عمل کی پیچیدگی کی وجہ
سے ہی آج تک تھیوریز تو بہت ساری آئی ہیں
لیکن لاء بہت کم بن سکے۔ حیاتیات (Biology)
میں صرف دو لاء ہیں، کیمیاء (Chemistry) میں تین سے پانچ، طبعیات (Physics) میں دس سے پندرہ اور ریاضی (Mathematics)
میں کوئی بیس سے پچیس قوانین ابھی تک بن پائے ہیں۔ یہاں بننے سے زیادہ مناسب لفظ
دریافت ہوگا کیونکہ یہ قوانین تو خالقِ کائنات نے خود ہی اربوں سال پہلے بنا دیے
تھے اور کائنات تب سے انہی قوانین کے تحت چل رہی ہے، انساننے تو بس انہیں دریافت کیا ہے۔
اب
آتے ہیں "عظیم دھماکے کے مفروضے" (Theory of Big Bang) کی طرف،
اس تھیوری کی تاریخ نئی نہیں ہے اس سے پلے بھی کائنات کی حقیقت کے متعلق
مختلف تھوریز آتی رہی ہیں، لیکن پرانی سب
تھیوریز نے صرف یہ بتایا کہ کائنات کیسی ہے، کس حالت میں ہے، کسی نے بھی اسکی
ابتداء کی جانب اشارہ نہیں کیا۔ بنیادی
طور پر یہ ایک ہی تخلیقِ کائنات کے متعلق
تھیوری ہے جو کہ صدیوں کے فکری ارتقاء کے بعد آج ہمارے سامنے "بِگ بِینگ
تھیوری" کی شکل میں موجود ہے۔
اسکو مختصراً بیان کرتا ہوں، پہلےپہل قدیم انسان کا یہ نظریہ تھا کہ زمین اس
ساری کائنات کا مرکز ہے جبکہ باقی سارے اجرامِ فلکی (سورج، چاند، ستارے) اسی کے
گرد گردش کر رہے ہیں،
"ارسطو" کا بھی یہی
نظریہ تھا۔ اسکے بعد یونان میں ہی
"فیثاغورث " نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین اسکے گرد
گردش کر رہی ہے۔ پھر "بطلیموس"
نے آکر دوبارہ ارسطو کے نظریہ کو زندہ کیا اور فیثاغورث کا رد کر دیا، ایک طویل عرصہ تک سائنس اسی نظریے کو درست
مانتی رہی۔ اسکے بعد اندلس (مسلم اسپین) کے ایک سائنسدان" زرقالی" (Arzachel) نے
1080ء میں زمیں اور سورج دونوں کے محوِ حرکت ہونے کا نظریہ پیش کیا، اسکاکہنا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے
اور سورج بھی اپنے راستے پہ رواں دواں ہے جو کہ نامعلوم ہے، تو لہٰذاان دونوں میں سے کوئی بھی مرکزِ کائنات
نہیں۔ اسکے بعدیورپ میں کوبرنیکس، ٹیکو
براہی ، گیلیلو، کیپلر اور نیوٹن جیسے مشہور سائنسدان آئے ،
لیکن پھر بھی وہ سورج ہی کو کائنات کا
مرکز قرار دیتے رہے، گو کہ گیلیلو یہ دریافت کر چکا تھا کہ اس کائنات میں ہمارا
نظام شمشی ایک کہکشاں کا حصہ ہے اور اس کائنات میں اس کہکشاں جیسی لاتعداد
کہکشائیں موجود ہیں، لیکن نیوٹن تک اہلِ
یورپ اسی بات کے قائل رہے کہ سورج بہر حال ساکن ہے، اور یہ کائنات بھی حالتِ سکون میں ہے، اور یہ
ہمیشہ سے اسی حالت میں ہے۔
بالآخر
بیسویں صدی میں آئن اسٹائن نے آکر نظریۂ اضافیت
(Theory of Relativity)
پیش کیاجسکی رو سے کائنات میں موجود تمام
مادہ (Matter)
درحقیقت انرجی (Energy)
سے وجود میں آیا ہے اور مادہ اور انرجی ایک دوسرے میں تبدیل (Convert)
ہو سکتے ہیں۔ اسمیں حرکت اور رفتار کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسنے نیوٹن کے نظریہ جمودِ کائنات کا تو رد کر
دیا لیکن خود اسکے مقابلے میں کوئی نیا تصور دینے سے قاصر رہا ۔ 1929ء
میں ایڈون ہبل نے پہلی بار یہ مفروضہ پیش کیا کہ کائنات غیر جامد اور متغیر ہے اور حرکت پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ
مسلسل پھیل بھی رہی ہے، جس سے یہ اور وسیع
ہو رہی ہے، اسکی یہی تحقیق بِگ بِینگ
تھیوری کی بنیاد بنی۔ کائنات کے اس مسلسل پھیلاؤ نے سائنس دانوں کو اس پھیلاؤ کی
وجہ جاننے کے لیے اکسایا اور ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگز، ڈاکٹر جارج ایلیس اور ڈاکٹر
راجر پینروس نے 1970 – 1968 کے عرصے میں گزشتہ سب تھیوریز کو سامنے رکھتے ہوئے
تحقیق کی اور یہ نتائج اخذ کیے کہ اس پھیلاؤ کا سبب ایک عظیم دھماکہ ہو سکتا ہے جو
کہ آج سے تقریباً 15 ارب سال پہلے ہوا، یہی بِگ بِینگ تھیوری ہے۔
سادہ
الفاظ میں بِگ بِینگ تھیوری یہ کہتی ہے کہ اس کائنات میں موجود تمام کا تمام
مادہ (Matter) ایک اکائی (Singularity)
سے وجود میں آیا ہے، سب کچھ پہلے ایک انتہائی چھوٹے ذرے "مختصر ترین کائناتی انڈے" (Minute Cosmic Egg) کی
شکل میں تھا، جو کہ پھٹا جس سے انتہائی
زیادہ انرجی نکلی، اور اس انرجی سے پھر
آہستہ آہستہ کائنات کا سارا مادہ بنا۔ اب یہ پھٹا کیوں اور کس نے پھاڑا، یہ غیر حل شدہ سوال تو اس تھیوری میں بھی موجود
ہے، بہر حالی یہ تھیوری اتنا ضرور کہتی ہے
کہ اس ذرے سے قبل کسی بھی چیز کا وجود نہیں تھا،
یعنی ساری کی ساری کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے۔
اب
ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ کریم اس بارے میں کیا کہتا ہے:
سب سے پہلے تو سورۃ الانبیاء، آیت نمبر 30
أولم ير الذين كفروا أن السماوات والأرض كانتا رتقا ففتقناهما وجعلنا من الماء كل
شيء حي أفلا يؤمنون*
ترجمہ:" کیا وہ لوگ
جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہےغور نہیں کرتےکہ یہ سب آسمان اور
زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھرہم نے اِنہیں
جدا کیا۔ اور پانی سے ہرزندہ چیز پیدا
کی، کیاوہ (ہماری اِس خلاقی کو) نہیں
مانتے؟"۔
اس آیتِ کریمہ میں دو
الفاظ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، "رتق"
کے معنی ہیں کسی جیز کو باہم ملے یا بندھے ہونے کے اور "فتق" کے معنی ہیں کسی چیز کو جدا
کرنے، توڑنے یا الگ کرنے کے۔
مختلف سائنس
دان اس امر کے قائل ہیں کہ اسی ایک چھوٹے سے ذرے میں ہونے والے دھماکے سے ہی اس
ساری کائنات کا مادہ نکلا اور مختلف مراحل طے کرتا ہوا موجودہ حالت میں پہنچا۔
ایک اور جگہ ارشادِ پاک
ہے کہ:
والسماء
بنيناها بأيد وإنا لموسعون*
ترجمہ: اور آسمان کو ہم نے اپنے زور (قوت/طاقت/انرجی) سے بنایا ہے اور ہم اسکی قدرت رکھتے ہیں۔
سورۃ الذاریات، آیت نمبر 47
آسمان
سے مراد کوئی تہہ یا ٹھوس چھت نہیں، بلکہ زمین کے اوپر ساری کائنات آسمان ہی تو
ہے، اسی رو سے آسمان کو کائنات بھی کہا جا سکتا ہے، اوریہاں اللہ رب العزت یہی ارشاد فرما رہے ہیں
کہ اس سب کو قوت(بے پناہ انرجی) سے پیدا
کیا گیا۔
ایک اور آیتِ کریمہ دیکھیں:
قُلْ
أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ*
ترجمہ: کہہ دیجئے میں پناہ چاہتا ہوں فلق کے رب کی۔
عربی
گرامر کی رو سے لفظ "فلق" کے متعدد معانی ہیں، فلق کا مطلب ہے کھلنا یا
پھٹنا، اب کسی ذرے کا پھٹنا بھی ہو سکتا ہے، کسی جسم کا بھی اور پو (صبح ) کا
بھی۔ ہم اگرفلق کو کسی چیز کو پھاڑ کر کھولنے کےمعنی میں لیں تو
ایک اور آیتِ کریمہ اس کی تائید کرتی ہے۔ جس میں ارشاد ہے:
إن الله فالق الحب والنوى*
ترجمہ: بے شک اللہ ہی دانے
اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔
اب اگر دیکھیں تو فلق امر / فعل ہے اور فالق امر کرنے والا/ فاعل۔ اس معنی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے
کہ اسی چھوٹے سے ذرے کو پھاڑ کر اللہ رب العزت نے کائنات کی تخلیق کی۔
اسکے
علاوہ کافی عرصہ پہلے "مولانا اختر حجازی ؔ"کی لکھی ہوئی "قصص
الانبیاء " پڑھی تھی، اس میں کائناتکی تخلیق ایک چھوٹے سے ذرے سے
ہونے کے بارے میں کچھ روایات "بیان تخلیقِ کائنات" کے باب میں موجود
تھیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت مجھے
بِگ بِینگ تھیوری کی الف بے بھی نہیں آتی تھی۔
فی الوقت کسی ذریعے کی عدم دستیابی کے باعث میں احدیثِ مبارکہ سے اس بارے
میں کوئی روایت پیش نہیں کر سکتا۔
الغرض میں قرآنِ کریم کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے
اس تھیوری کو باقی تھیوریز سے معتبر ضرور
مانتا ہوں لیکن مطلق ہرگز نہیں مانتا،
کیونکہسائنس کی رائے ہر روز بدلتی ہے،
تویہ بھی ممکن ہے کہ کل کوئی اور سائنسدان اپنے زیادہ قوی دلائل پیش کر کے
اس تھیوری کا رد کر دے اور کوئی نئی تھیوری دے دے۔ مگرتب تک،
بِگ بِینگ کو کسی حد تک تسلیم تو کیا جا سکتا ہے۔
۔
۔
تحریر: طلحہ شہادت
