Saturday, 25 April 2015

مہاجر اور مہاجرازم


آج اس جبھتے ہوئے موضوع پر قلم اٹھانے کا ارادہ کیا ہے۔ بلاشبہ قوم پرستی کا ناسور ہمارے ملک کی جڑوں کو دن بہ دن کھوکھلا کر رہا ہے۔ قوم پرستی یا نسل پرستی کسی بھی ریاست میں معاشی، معاشرتی اورسیاسی استحکام کے لیے حد درجہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ قوم نظریے سے بنتی ہے، کوئی رنگ کی بناء پر قوم کی تعریف کرتا ہے اور کوئی نسل، زبان، خطے،ملک یا کسی مخصوص طبقے کو قوم سمجھتا ہے۔ شاعرِ مشرق کی نظر میں قوم مذہب سے بنتی ہے۔
ہمارے ملک میں اتنے شہر نہیں جتنی یہاں قومیں بن چکی ہیں۔ اور ہر طبقے نے اپنی الگ پہچان حاصل کرنے اور مخصوص مفادات کے حصول کے لیے اپنا اپنا نعرہ اور تنظیم  بنا لی ہے۔ ایسے میں ایک قوم "مہاجر" کا نام بھی لیا جاتا ہے جسکا تقسیمِ برصغیر سے قبل کوئی وجود نہیں تھا۔
مہاجر کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے والے کو کہتے ہیں اور ہجرت کا معنی ہے کسے ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی خواہش یا کسی مجبوری کی وجہ سے منتقل ہو کر وہاں مستقل سکونت اختیار کر لینا۔مہاجر اور مسافر میں یہی فرق ہے کہ مسافر کا قیام اپنی منزل پہ عارضی ہوتا ہے جبکہ مہاجر کا مستقل۔ اور سفر یا ہجرت کرنے والے کو تو مہاجر یا مسافر کہا جاتا ہے، کیونکہ فعل سے صرف فاعل کا تعلق ہوتا ہے اور یا مفعول کا، لیکن اسکے خاندان، اسکے عیال اور اسکی نسل کے کسی بھی فرد سے اسکے فعل کو منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ سے کچھ مثالیں دیتا ہوں، حضرت آدم علیہ السلام، جنت سے زمین پر ہجرت کی، اب انکی نسل زمین پر آباد ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام عراق سے مکہ ہجرت کی، بعد میں انکی نسل وہاں آباد ہوئی،۔ اسکے علاوہ مختلف قومیں جنہوں نے ہجرت کی، برصغیر میں آنے اور یہاں صدیوں حکومت کرنے والے آریا، مشرقِ وسطٰی سے آئے تھے۔ خراسان (افغانستان) میں رہنے والی پختون قوم (جو کہ آلِ ھارون علیہ السلام ہے ) وہ فلسطین سے آئے۔ برصغیر میں بسنے والے سادات، عربی النسل ہیں اور انکے آباء سے عرب سے آکر یہاں سکونت اختیار کی تھی۔ اور موجودہ جدید دنیا سے اگر مثال لیں تو سب سے بڑی مثال امریکہ، وہاں کے اکثریتی باشندوں کے اجداد نے دنیا کے مختلف خطوں سے وہاں ہجرت کی، آسٹریلیا اور نیو زیلینڈ کے لوگ انگلستان سے آئے اور اسکے علاوہ بھی مخلف افریقی ممالک میں بہت سفید فام آباد ہیں جنکے آباء ہرگز افریقی نہیں تھے۔ اب اصولا یہ سب لوگ مہاجر نہیں کہلاتے اور نہ ہی کہلا سکتے ہیں کیونکہ یہ سب فاعلین نہیں ہیں۔ انکے بڑے فاعلین تھے اور وہ مہاجرین تھے۔ ان سب مثالوں میں کہیں بھی مہاجر قوم کا  سراغ نہیں ملتا۔
پاکستان میں موجود جن لوگوں کو مہاجر کہا جاتا ہے انکے آباء و اجداد نے اپنے گھر، جائیدادیں، رتبے اور معاشرے میں اپنے مقامات، سب کچھ چھوڑ دیا اور ایک ہی خطے کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر کو ہجرت کی کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہندوستانی قوم سے منفرد اور ممتاز ہیں اور اسی امتیاز کی وجہ سے انہیں ایک الگ رقبے پر اپنی مملکت قائم کرنی ہے اور وہاں رہنا ہے۔ میرے اپنا ددھیال بھارت کے شہر لدھیانہ اور ننھیال بھارتی شہر انبالہ سے اٹھے اور اللہ کے آسرے پہ "پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ" کا نعرہ لگاتے ہوئے چل دیے۔ راستہ طویل ضرور تھا مگر ہمت بلند تھی، زادِ راہ اگرچہ میسر نہیں تھا لیکن حوصلے پھر بھی جوان تھے۔ میں نے اپنے بزرگوں سے جو سنا ہے اسکے مطابق ننھیال اور ددھیال میں سے دورانِ ہجرت شہید ہونے والوں کی تعداد 55-45 ہے۔ اب جب وہ لوگ لٹے پٹے یہاں پہنچےتو انکے پاس اپنی ناتواں جانوں اور تواناں حوصلوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ ہجرت کر کے آنے والے جب سنتے تھے کہ وہ پاکستان کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں تو فورا سجدوں میں گر جاتے تھے اور اپنے رب کا شکر اد کرتے تھے، باوجود اسکے کہ انکے کئی پیارے یا تو مارے جا چکے ہوتے تھے اور یا اغواء کیے جا چکے ہوتے تھے۔ تھوڑی دیر کے لیے آنکھوں بند کیجئے اور خود کو تصور کیجئے اس ماں کی جگہ جسکے لختِ جگر کی شہہ رگ اسکے سامنے کاٹ دی گئی ہو،  اس باپ کی جگہ جسکی جواں بیٹی کے جسم کو اسکے سامنے ظالم درندوں نے نوچا ہو۔ اس بیوی کی جگہ جسکی آنکھوں نے اپنا سہاگ  اجڑتا دیکھا ہو، اس بہن کی جگہ جسکے سامنے اسکے جوان بھائی کے جسم کے ٹکڑے کر دیے گئے ہوں اور اس بھائی کی جگہ جو بے بسی سے اپنی بہن کو عزت پامال ہوتے دیکھتا رہا۔  یہ سب مفروضے نہیں! تاریخی حقائق ہیں۔ اُن سب لوگوں نے اتنا سب کچھ سہا اور بردوشت کیا صرف اس آس پر کہ اب وہ جس ملک میں جا رہے ہیں وہاں یہ سب جھیلنا نہیں پڑے گا، انکی جان و مال کو امان ہوگی اور انکو دکھلائے گئے خواب وہاں پورے کیے جائیں گے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ یہاں پہلے سے بسنے والے افراد نے جہاں مہاجرین کو خوش آمدید کہا اور انکی مدد کی تو ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے اُن مجبوروں کی مجبوریوں سے جی بھر کر فائدہ اٹھایا۔ خاندان کی ایک بزرگ خاتون کے بارے میں سنا ہے کہ وہ وہاں سے نکلتے وقت جتنا ہو سکا اتنا زیور اپنے ساتھ اپنے لباس میں چھپا کر لے آئیں تھیں۔ لیکن یہاں آکر ایسا ہوا کہ ایک ایک روٹی کے لیے انکو ایک ایک گہنا دینا پڑا۔ یعنی اگر گھر والوں کو آٹا چاہیے تو چوڑیاں دے کر آٹا لے لیا، اور کسی چیز کی ضرورت ہے تو کوئی اور سونے کا گہنا دے کر لے لی۔ غرض کچھ مفاد پرست عناصر نے مہاجر کیمپوں میں بھی لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔
خدا خدا کر کے وقت گزرتا رہا، مختلف نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد آج زندگی اس مقام پر کھڑی ہے کہ اُن مہاجروں کی تیسری نسل اِس دھرتی پر جوان ہو چکی ہےلیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ آج بھی انکی پہچان وہی ہے، یعنی "مہاجر"۔ زیادہ تر مہاجرین پنجاب اور سندھ میں آئے تھے۔ پنجاب میں آنے والوں میں سے زیادہ تر کی مادری زبان تو پنجابی ہی تھی جسکی وجہ سے ان میں اور یہاں کے مقامی افراد میں فرق کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ جبکہ سندھ میں اور پنجاب کے کچھ حصوں میں آکر بسنے والے ایسے افراد جن کی زبان اردو، بہاری یا کوئی تیسری تھی، وہ لوگ آج بھی اپنا الگ لسانی تشخص رکھتے ہیں۔ اور اپنی ایک الگ زبان رکھنا کوئی برائی نہیں۔ یہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کو جیسے چاہے گزارے۔ لیکن ان پیچاروں کو یہاں کے لوگوں میں سے کچھ مفاد پرست عناصر نے قبول نہیں کیا اور لسانیت کو بلا وجہ ہوا دی، دوسری جانب کچھ شر پسند عناصر نے مہاجریں کے اندر بھی ایک الگ قوم ہونے کا جذبہ ابھارنا شروع کر دیا اور یوں مہاجر قوم پرستی کا ایک ایسا  اژدھا نمودار ہوا جو کہ صرف ایک شہر کراچی میں ہی سینکڑوں انسانی جانیں نگل چکا ہے۔
ایک بے بنیاد مسئلہ! آخر کب تک ہماری قوم ایسے مسائل جھیلتی رہے گی! گروہی تعصبات جس قدر زیادہ ہوں گے اتنی جلدی ہی ملی وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی!
میں بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان میں بسنے والے ہر ایک  پاکستانی کو کہ نہ تو میں مہاجر ہوں اور نہ ہی میرے جیسا کوئی اور شخص! پاکستان پہ ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا! ہمارے آباء نے اپنے گھر بار اپنی پہچانیں چھوڑیں صرف اور صرف اس ملک کے لیے اور اب ہماری پہچان اسی ملک سے ہے، یہی ہمارا گھر ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہم سے ہماری پہچان چھین سکے۔ اور اپنے اُن نادان بہن بھائیوں سے بھی گزارش کروں گا جو ابھی تک لفظ "مہاجر" سے چمٹے ہوئے ہیں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں! آپ ہرگز مہاجر نہیں ہیں، یہ آپکا ملک ہے، یہ آپکا گھر ہے، آپ یہیں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں دفن ہونا سے، اور کوئی دوسرا آپ سے بڑا پاکستانی نہیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے ملک کو امن و سلامتی کا گہوارا بنائیں اور ان سب مصائب و آلام سے ہماری قوم کو نجات دلائیں۔ آمین
تحریر: طلحہ شہادت