سوچا ہے اب سے شریف بن جاؤں گا
یعنی کہ شائشتہ انداز تحریر
اپناؤں گا
کچھ دوست ناراض ہیں اس بات پہ مجھ سے
کہ آرام سے ہوتی نہیں اک بات بھی مجھ سے
کہتے ہیں تم سے رکھنا یارانہ ہی نہیں
میں بھی کہتا ہوں بھلے کا زمانہ ہی نہیں
بھلا آرام سے بات یہاں سنتا کون ہے
آم کھا کر پیڑ یہاں گنتا کون ہے
غلط ہوتا کچھ دیکھ کر سرپیٹ جا ؤ گے
کوئی نہ سنے گا تو کیا چپ پیٹھ جاؤ
گے
بھینس تو ہے بھئ یہاں لاٹھی
والے کی
شریف کے لیے ہے بس نوکری
گوالے کی
سرکار آپ کی بات سر آنکھوں پہ
ہمارے
نیا بوجھ پڑے چاہے کاندھوں پہ
ہمارے
آگے سے نہ اب یہ مجال ہم کریں
گے
لکھتے دم لہجے کا خیال ہم
کریں گے
بے خوابی کی ہمیں جو لگی ہے
بیماری
وقت گزاری کے لیے یہ نظم دے ماری
کچھ شغل کا دل تھا کہ انسان
ہیں ہم
غصہ نہ کیجئے گا ، نادان ہیں
ہم
شاعر: طلحہ شہادت
No comments:
Post a Comment