Sunday, 18 January 2015

شریف بن جاؤں گا - نظم

سوچا ہے اب سے شریف بن جاؤں گا

یعنی کہ شائشتہ انداز تحریر اپناؤں گا

کچھ دوست ناراض ہیں اس بات پہ مجھ سے

کہ آرام سے ہوتی نہیں اک بات بھی مجھ سے

کہتے ہیں تم سے رکھنا یارانہ ہی نہیں

میں بھی کہتا ہوں بھلے کا زمانہ ہی نہیں

بھلا آرام سے بات یہاں سنتا کون ہے

آم کھا کر پیڑ یہاں گنتا کون ہے

غلط ہوتا کچھ دیکھ کر سرپیٹ جا ؤ گے

کوئی نہ سنے گا تو کیا چپ پیٹھ جاؤ گے

بھینس تو ہے بھئ یہاں لاٹھی والے کی

شریف کے لیے ہے بس نوکری گوالے کی

سرکار آپ کی بات سر آنکھوں پہ ہمارے

نیا بوجھ پڑے چاہے کاندھوں پہ ہمارے

آگے سے نہ اب یہ مجال ہم کریں گے

لکھتے دم لہجے کا خیال ہم کریں گے

بے خوابی کی ہمیں جو لگی ہے بیماری

وقت گزاری کے لیے  یہ نظم دے ماری

کچھ شغل کا دل تھا کہ انسان ہیں ہم

غصہ نہ کیجئے گا ، نادان ہیں ہم

شاعر: طلحہ شہادت

Friday, 9 January 2015

میرے کپتان کی شادی ہے

وہ منافق، یہ منافق۔ تو منافق، میں منافق!!

آج کل منافقت کے سرٹیفکیٹ اس طرح بٹ رہے ہیں جیسے کسی دور میں کفر کے فتوے لگا کرتے تھے۔

اور منافقت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ٹاپ پر انصافیز اینڈ کمپنی ہے۔

اور معیارِ منافقت ہر وہ جائز اعتراض ہے جو آپ تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست کو لے کر اٹھائیں۔

ارے بھئی۔ بات وہی ہے۔

"Blind following"

اب جالیہ واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ پہلے پہل جب خان صاحب کی شادی خانہ آبادی کی خبر آئی تو ہماری طبیعت بھی

خوشگوار ہو گئی۔ جلدی سے جا کر گوگل پر بھابھی کی تصویر دیکھی اور صدقے واری کیے۔

(اس سے پہلے ہم نے بھابھی کو نہیں دیکھا تھا)

خوشی خوشی سوشل میڈیا کھولا کہ دوستوں یاروں کو بھی خبر سنائیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں تو جنگ چھڑی ہوئی ہے اور

فیس بک ہو یا ٹویٹر۔ ہر جگہ بھابھی کا نام تک لینا منافق کی نشانیوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

خیر تھوڑی دیر بعد خان صاحب کا بھی پیغام آگیا میڈیا پر۔

ایک بات کا اعتراف کرتے ہیں ہم کہ خان صاحب نے انکار نہیں کیا تھا شادی سے۔ بس بات ذرا گھما پھرا دی تھی۔ اور

وقت کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ بات دبی رہے۔

لیکن بھابھی کہاں چپ رہنے والی تھی۔ اسے تو جیسے بنی گالہ ہاتھ سے پھسلتا محسوس ہوا اور جھٹ سے برطانوی میڈیا

کے ڈریعے خبر لیک کر دی۔

پھر خان صاحب کو بھی اسکا اقرار کرنا پڑا اوراب خان کی آئے گی بارات F-11 اور دل والے دلہنیا لے کر ہی جائیں

گے۔

اب اس سارے معاملے میں جب پہلے میرے تحریکِ انصاف والے بھائی بہن ہر اس شخص سے لڑ رہے تھے جو کہتا تھا

کہ شادی ہو چکی۔

تو اب ہر اس شخص سے لڑ رہے ہیں جو کہتا ہے کہ پہلے کیوں لڑ رہے تھے۔

ارے بھئی۔ اگر کوئی آپ کو آئینہ دکھا ہی دیتا ہے تو وہ آپکا دوست ہے، دشمن نہیں۔

اب یہ لڑائی لڑائی بند کرو اور ساتھ میں منافقت کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بھی۔

اور تھوڑا خوش ہو جاؤ۔

آخر میرے بھی تو کپتان کی شادی ہے

نادانؔ

Wednesday, 7 January 2015

Hazrat Umar bin Abdul Aziz - حضرت عمر بن عبدالعزیز

خلافت راشدہ کا دور تو بہترین گزرا مگر اسکے 

بعدخلافت (یعنی حکومت) کو خلفاء (یعنی 

حکمرانوں)نے اکثروبیشتر اپنی ذاتی جاگیر ہی 

سمجھا اور رعایا کے ساتھ مختلف ادوار میں بہت 

ناانصافیاں ہوئیں. ان ناانصافیوں کی اک مثال 

ایسے لیں کہ حکمران خاندان کےافراد میں بڑی 

بڑیجاگیریں بانٹیں گئیں، انہیں سیاہ و سفید کا 

مالک بنا دیا گیا، حاکم عیش کرتے تھے اور عوام 

مار کھاتی تھی، ظلم کی انتہا کہ قانون کے 

مطابقمسلم رعایا سے سالانہ زکوۃ لی جانی چاہیے 

تھی اور غیرمسلم رعایا سے سالانہ جزیہ مگر وہاں 

اگر کوئی غیرمسلم اگر حق کو پہچان کر مسلمان 

ہوگیا تو اسکو جزیہ بھی معاف نہیں ہوتا تھا 

اورزکوۃ بھی اسکو پھر ادا کرنا ہوتی تھی!

حضرت عمر (رح) بن عبدالعزیز بن مروان خلافت 

اسلامیہ کے بارھویں خلیفہ تھے . . خلافت سے پہلے 

اپنے لباس اور خوشبو کے حسن انتخاب کی وجہ سے 

پورے عرب میں مشہور تھے اور اپنا کوئی ثانی نہ 

رکھتے تھے. روایات میں آتا ہے کہ ایک دن میں 

کئکئ لباس بدلتے اور جو ایک بار پہن لیا وہ 

دوبارہ نہ پہنا، دسترخوان شاہانہ، بستر 

شاہانہ،خاندان خلافت کے چشم و چراغ، خلیفہء وقت 

کے داماد اور بھتیجے. خلافت سے پہلے حجاز کی 

گورنری ملی، روایت ہے کہ جب گورنر کے طور پر 

مدینہ پہنچے تو 30 یا اس سے زیادہ اونٹوں پر 

بسآپ کا ذاتی سامان لاد کر لایا گیا تھا. غرض کہ 

دنیاوی شہزادگی کا حق ادا کرتے تھے.

بات ساری ذمہ داری کے احساس کی ہے. اس وقت 

خلافتاسلامیہ (اسلامی حکومت) آدھی دنیا پر پھیلی 

ہوئی تھی. ہند کے راجاؤں سے لے کر روم کے 

بادشاھوں تک سب ہی مسلمانوں کو خراج دیتے تھے. 

جو بھی اس وقت خلیفہ بن جاتا اسکو اس قدر مال 

ملنا تھا کہ سات کیا ستر پشتیں بھی بیٹھ کر 

کھائیں، مگر عمر بن عبدالعزیز (رح) کی سوچ ذرا 

مختلف تھی دوستو . . سب کچھ جانتے تھے مگر 

انکوعظیم حقیقت کا ادراک تھا.

جانتے ہیں وہ عظیم حقیقت کیا تھی؟ جانتے ہیں 

کہاس عظیم انسان کو کیا نظر آتا تھا؟

"موت" . .

بلی کو دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا 

ہےتو بلی غائب نہیں ہو جاتی . . اسی طرح انسان 

اگر موت کو بھول جاۓ تو ہمیشہ زندہ نہیں رہتا. 

مرنا ہے، اک دن ضرور مرنا ہے، سب نے مرنا ہے، 

تو کیوں غفلت کریں، کیوں ظلم کریں، کیوں حرام 

کاریاں کریں، جب معلوم ہے کہ مرنے کے بعد اللہ رب 

العزت کے سامنے ہی پیش ہونا ہے تو کیوں اسکی 

نافرمانی کریں . .

پختہ یقین تھا اس عالی ظرف شخص کو اپنے رب کے 

انصاف پر، وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اپنے فرض و 

منصب سے ناانصافی کرے گا تو اسکا رب تو بہترین 

منصف ہے، وہ ناانصافی نہیں کرتا . . اسکو اپنے 

آقا (ص) کے فرمان عالی شان کا پاس تھا کہ "ہر 

کسی سے اسکی رعیت کے بارے پوچھا جاۓ گا". وہ 

جانتا تھا کہ اس آدھی دنیا میں پھیلی سلطنت 

میںاگر کوئی دودھ پیتا بچہ بھی بھوکا رہ گیا 

تواسکا بھی اسے حساب دینا ہوگا.

بس پھر انہوں نے وہ کچھ کیا کہ جہان دنگ رہ 

گیا. اپنے دو سال کے مختصر دور حکومت میں ایسا 

مثالی کام کیا کہ اپنے سے بعد آنے والے 

حکمرانوں کو پیغام دے گۓ کہ . . .

گر ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

جب سلیمان بن عبدالملک کے بلانے پہ قصرخلافت 

پہنچے اور معلوم ہوا کہ اگلے خلیفہ آپ ہیں تو 

پریشان ہو گۓ، یقینا اس وقت انکی نظروں کے 

سامنے میدان محشر کا نقشہ گھوم گیا ہوگا کہ 

سوال ہوا ہے کہ "عمر! جو ذمہ داری دی گئ وہ 

کیسی نبھائی؟" بس پھر بدل گۓ، پورے کے پورے 

بدلگۓ، قصر میں رہائش نہ رکھی، شاہی سواری 

استعمال ناں کی، شاہی دستہ واپس کردیا، وہ 

تمامدولت، جاگیر جو کہ شاہی خاندان کے پاس تھی 

وہ حق داروں میں تقسیم کروادی یا بیت المال 

(سرکاری خزانہ) میں جمع کروادی اور شروع اپنے 

گھر اور اپنی ذات سے کیا. کبھی وہ دن تھے کہ 

ایک دن میں کئ کئ لباس اور حکومت ملتے ہی ایسا 

حال ہوا کہ کئ کئ دن ایک ہی لباس اور وہ بھی 

پیوند لگا ہو. صحیح معنوں میں خلافت راشدہ کی 

یاد تازہ کردی.


ان کے بعد از خلافت کے حالات زندگی پہ تو کتابوں 

کی کتابیں لکھی جا چکیں، جو بات میں یہاں قابل 

ذکر سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ انہوں نے وقت کی 

کمی کا بہانہ نہیں بنایا، حالات کے سازگار ہونے 

کا انتظار نہیں کیا، انکے اقدامات نے شاہی 

خاندان سمیت تمام امراۓ سلطنت کو ان سے متنفر 

کر دیا یہاں تک کہ انکو زہر دے کر شہید بھی 

انہی کے خاندان نے کیا. مگر انکی حکومت کے 

پہلےہی سال جب حکومتی وسائل کی منصفانہ تقسیم 

ہوئی اور حقدار کو اسکا حق ملا تو رعایا کا یہ 

عالم تھا دوسرے سال لوگ زکوۃ اور صدقات لے کر 

نکلے مگر ڈھونڈنے پہ بھی کوئی ایسا شخص اسلامی 

سلطنت میں نہ ملا کہ جو اس قدر غریب ہو کہ زکوۃ 

و صدقات کا مستحق ہو. یہ انکا حسن انتظام تھا 

اور عادل حکمران کی برکت تھی . . . . . . . . .

اتنا سب لکھنے کا مقصد بس یہ بتانا تھا کہ اگر 

تو عام آدمی کی فلاح کے لیے نظام کو سچ میں 

بدلنا ہے تو متقی لوگوں کو آگے لاؤ، جو کہ موت 

سے زیادہ خدا سے ڈرتے ہوں اور چھپ چھپا کے 

بیٹھکر بیانات دینے کی بجائے سینا تان کر فرض 

کی ادائیگی کے لیے آگے آئیں، اور حقیقی اسلامی 

فلاحی نظام کی طرف عوام کو لے کر جائیں . . .

تحریر: طلحہ شہادت