مملکتِ خداداد پاکستان کے دارلحکومت
اسلام آباد کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں گزشتہ روز پیش آنے والی اندوہ ناک واقعے نے ملک بھر کے طلباء و
طالبات اور انکے والدین کو نہ صرف پریشانی میں
مبتلا کر دیا ہے بلکہ اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں غیر محفوظ ہونے کا احساس
بھی انکے سروں پر سوار ہو گیا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ وقافی اردو یونیورسٹی
اسلام آباد میں لسانی بنیادوں پر بننے
والی دو طلباء تنظیمیں آمنے سامنے آئیں اور تلخی اس قدر بڑھی کہ بات ہتھیاروں کے
استعمال تک جاپہنچی۔ آخری اطلاعات کے مطابق
12 یا 14 طلباء زخمی ہیں اور ایک بے چارہ زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔ جبکہ
گرفتارشدگان کی تعداد بھی 30 سے متجاوز ہے۔
واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ دو
طالبعلموں میں آپسی تنازعہ جو ہوا اسکی بنیادی وجہ ایک طالبہ سے تعلقات تھے۔ اب وہ
کس کے تھےکتنے تھے اور کیوں تھے یہ تو خدا بہتر جانے۔ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے
اُن دونوں طالب علموں نے اپنی اپنی نسل کے لوگوں کو آواز دی اور جاہلیت کے ٹھیکے
داروں نے اپنے اپنے بندے کے پیچھے کئی ماؤں کے لعلوں کو اذیت سے دوچار کر دیا۔
مقامِ عبرت ہے یہ ہمارے اُن سب
پاکستانی بھائیوں کے لیے جو اب تک نسلی تعصبات سے چھٹکارا نہیں پاسکے اور مقامِ شرم
و غیرت ہے ان مفاد پرست صاحبانِ اقتدار اور نظامِ تعلیم کے نام نہاد ٹھیکے داروں
کے لیے جو ابھی تک نہ تو خود ہمارے نظامِ تعلیم کو اِن سب خرافات سے پاک کر سکے
اور نہ ہی خیرخواہوں کو کام کرنے کی اجازت دی۔ نسلی منافرت کو ہوا دینے والے اچھی
طرح جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں کسی بھی قسم کے تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن
اپنے فانی دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ یہ سب کرتے بھی ہیں اور دوسروں میں
بھی نسل پرستی کو فروغ دیتے ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ رض روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک جنگ
میں تھے اور ابوسفیان رض نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے
تو مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کو مارا، انصاری نے پکار کر کہا کہ اے جماعتِ
انصار! اور مہاجر نے پکار کر کہا کہ اے
جماعتِ مہاجرین!
رسول
اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا
ہے۔
آپ
ﷺ نے فرمایا جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑو یہ برا کلمہ ہے۔
صحیح
بخاری: جلد دوم: باب: جاہلیت کی طرح گفتگو کرنے کی ممانعت۔
اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اگر
دیکھا جائے تو نسل پرستی جاہلیت کے طریقوں میں سے ہے۔ اور اپنی نسل کے نام پر کسی
سے ناجائز لڑنا تو جاہلیت کی انتہا۔ پھر اگر اعلٰی تعلیمی اداروں میں نوجوان گھٹیا
امور پر ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں ہو جائیں تو پر اِس قوم کی حالتِ زار کا
ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے۔
ہمارے اعلٰی تعلیمی اداروں میں ملک کے
مختلف کونوں سے مختلف نسلوں اور مسلکوں سے
تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے طلباء و طالبات آتے ہیں۔ اور یہی وہ
لوگ ہوتے ہیں جو مستقبل میں ملک کی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بھی بنتے ہیں او ر معاشرے کے
کارآمد افراد بن کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک شخص اپنی تعلیمی زندگی جن
رجحانات کے تحت گزارتا ہے وہی رجحانات پھر اسکی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور اسکی
بقیہ ساری زندگی انہی کے گرد گھومتی ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور گروہ بنا کر
رہنا انسانی فطرت کا لازمی جزو ہے۔ جب یہ طلباء
اپنے اداروں میں پہنچتے ہیں تو وہاں موجود اپنے جیسے دیگر طالبعلوں کو ساتھ
ملا کر اکثر گروہ بندی کر لیتے ہیں اور یا پہلے سے موجود کسی گروہ یا تنظیم کا حصہ
بن جاتے ہیں۔
مختلف طلباء تنظیمیں ہمارے ملک میں موجود
ہیں، کوئی نسل پرستی کا داعی ہے اور کوئی
مسلک پرستی کا پرچارک، کوئی اپنی زبان کا لوہا منوانا چاہتا ہے اور کوئی اپنے فرقے
یا اپنی قوم کو سربلند کرنا چاہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کچھ ایسے ملک و ملت کے
وفادار بھی موجود ہوتے ہیں جنکا نظریہ صرف اسلام اور جنکی پہچان صرف پاکستان ہوتی
ہے۔ ایسے طلباء کے گروہ کو منظرنامے پر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے نام سے جانا
جاتا ہے۔ یہ وہی جمعیت ہے جسکے پیش رو ملک کے تعلیمی اداروں میں اللہ کے دین کا
پرچم بلند رکھنے اور پاکستانی قوم کو اسی پرچم کے سائے تلے متحد رکھنے کا عزم لے
کر اٹھے تھے اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے عزم و استقلال کی ایسی مثالیں رقم کر گئے کہ آج
بھی اسلامی جمعیت طلبہ میں کسی بھی قسم کی لسانی، نسلی، قومی، مسلکی، گروہی یا
سیاسی منافرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان جس بھی رنگ یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں، جو بھی
زبان بولتے ہوں۔ انکی دعوت صرف اور صرف اللہ کی بندگی، اسکے رسولﷺ کی اطاعت اور
اسکے کلمہ کے نام پر قائم ملک پاکستان سے محبت ہی کی دعوت ہوتی ہے۔
مگر افسوس، صد افسوس کہ ہمارے اربابِ
اقتدار اس سب کو جانتے ہوئے بھی، جمعیت کی
اسلام اور پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں سے آگاہ ہونے کے باوجود ہمیشہ اِسکی راہ
میں روڑے اٹکاتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے یا اپنی ذاتی انا کی تسکین کے
لیے ملک و قوم کا ناقابلِ تلافی نقصان کرتے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی میں جو کچھ بھی ہوا، اسکے
براہ راست ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان نسل پرست گروہوں کو پہلے بننے اور پھر
وہاں رہنے دیا۔ اور برابر کے ذمہ دار ہیں ہمارے وہ نہایت ہی
قابل احترام استاد جنہوں نے پہلے پہل قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جمعیت کے
مقابل ان نسل پرست گروہوں کو مضبوط کرنے کی روایت کی بنیاد ڈالی۔
آج ایسا ہر گز نہ ہوتا اگر یہی طلباء
نسلی یا لسانی بنیادوں کو چھوڑ کر اسی ایک بنیاد پر جمع ہوتے جس بنیاد پر پاکستان
بنانے کے لیے برصغیر کے کروڑوں مسلمان جمع
ہوئے تھے۔ اور وہ بنیاد صرف اور صرف اسلام ہے۔ اسلام ہی ہماری اصل بنیاد ہے اور
اسی پر عمل میں ہمارے ملک و قوم کی ترقی کا راز مضمر ہے۔
اقتدار
کی مسندوں پر بیٹھے اے صاحبانِ اختیار!
خدارا باز آجاؤ اس روش سے۔ اس قوم کو
ایک ہونے دو۔ اور نفرتیں مت بانٹو، نفرتیں مت بانٹو۔
تحریر: طلحہ شہادت

No comments:
Post a Comment