اس دنیا میں آیا ہر
جاندار اپنے اندر طلب کا جذبہ رکھتا ہے اور کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی مطلوب
کا طالب رہتا ہے،
کچھ طلبیں وقتی ہوتی
ہیں اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں یا پھر انکی متبادل آجاتی ہے، جبکہ کچھ طلبیں
وقت کے
ساتھ شدت اختیار اختیار کرلیتی ہیں اور بعض اوقات طالب کی زندگی کا مقصد یا
حاصل بن جاتی ہیں.
اب ضروری نہیں کہ ہر طالب کو مطلوب مل جاۓ یا
کسی طالب کی ہر طلب پوری ہو، طلب پوری نہ ہونے کا ہرگز یہ
مطلب نہیں کہ طلب سچی نہیں تھی یا نیت میں کھوٹ تھی، دراصل کچھ چیزیں پسند
آجانے پر طالب انکو اپنا مطلوب تو
بنا لیتا ہے مگر وہ اسکے لیے نقصان دہ ہوتی ہے یا پھر وہ کسی دوسرے طالب کا
حق اور اسکے لیے مخصوص و محفوظ ہوتی
ہیں، ایسے میں طالب میں احساس شکست جنم لیتا ہے اور اگر یہ احساس اسکے
اعصاب پر حاوی ہو کر اسکو اللہ پاک کی
ناشکری و شکوہ شکایت میں مپتلا کر دے تو اسے تباہی کی طرف لے جاتا ہے. جبکہ
ایسے موقع شکرگزاری اور صبر و تحمل
کا مظاہرہ کرنے اور راضی بہ رضا رہنے والے کی طلب کو اسکی شدت کو برقرار
رکھتے ہوئے اللہ پاک کمال مہربانی سے
اپنی طرف پھیر لیتے ہیں اور پھر اسکا مطلوب صرف اور صرف محبوب حقیقی بن
جاتا ہے
تحریر: طلحہ شہادت
تحریر: طلحہ شہادت
No comments:
Post a Comment