Monday, 5 January 2015

اسلامی حکومت اور مسلم حکومت میں فرق - The Difference b/w Islamic and Muslim Government

اکثر ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ  اسلامی اور مسلم حکومت میں کیا فرق ہے۔بظاہر تو کوئی فرق نظر نہیں آتا مگر دونوں سراسر مختلف ہیں۔
          سب سے پہلے تولفظ حکومت کی تشریح کرنا ضروری ہے۔ حکومت حکم سے ہے، یعنی ایک حاکم جو کہ کسی مخصوص خطے، علاقے، ادارے یا کسی بھی مفعول پر (جو کہ حدود و قیود کا پابند ہو) اپنا حکم (فعل) نافذکرتا ہے یا چلاتا ہے وہ اسکی حکومت کہلاتا ہے۔
          اب اگر کسی ملک یا ریاست کے معاملے میں دیکھا جائے تو بلاشبہ یہ آسمان و زمیں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب صرف اور صرف اللہ رب العالمین کا ہی ہے اور وہی اسکا تنہاحاکم ہے اور اسکی حکومت اسی کے لیے ہے۔
          حکومت کے احکامات اسکے قوانین ہوتے ہیں اور حکومت اسی کی ہو گی جو قانون بنانے اور انہیں لاگو کرنے کی قدرت رکھتا  ہو، اگر ایک ریاست میں ایک بادشاہ کو حکمران مقرر کیا جاتا ہے مگر قانون سازی اور نفاذ کا اختیار اسکو حاصل نہیں تو نہ ہی وہ حکمران ہے اور نہ ہی اسکی وہ حکومت ہے۔
          عوام الناس کو انکے حقوق دینے،  انکی جان و مال کا تحفظ کرنے اور ریاست کے معاملات کو احسن انداز میں چلانے کے لیےقوانین کا جاندار اور غیرجانبدار ہونا نہایت ضروری ہے۔ تاریخ انسانی پر نظر دوڑائیں تو جب بھی کسی انسان کو دوسرے انسانوں پر حکومت ملی تو اس نے بلا جھجک دوسروں کے حقوق کا استحصال کیا اور اپنے خاندان و اہل و عیال کو مراعات سے مستفید کیا اور خود بھی خوب عیاشی کی۔ حکمران جتنا بھی صالح اور انصاف پرور ہو، شخصی حکومت کی سب سے بڑی خامی ہی یہی ہے کہ حاکم مطلق العنان ہوتا ہے اور کسی کو جواب دہ نہیں ہوتا۔
          اسلام کی آمد کے ساتھ ہی جہاں ضلالت و گمراہی کے بادل چھٹ گئے وہاں انسانوں کے معاملات کو چلانے کے لیے ایک ایسی حکومت کا تصور دیا گیا جس میں تمام قوانین و دیگر معاملات میں حاکم(خلیفہ) براہ راست اللہ احکم الحاکمین کو جوابدہ ہو گا اور ہر طرف عدل و انصاف کا بول بالا ہو گا، ہر انسان کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور قوم کا سربراہ قوم کا خادم ہو گا۔ آسان الفاظ میں کہیں تو اگر  سو (100)لوگ ایک حاکم کو جوابدہ ہیں تو وہ حاکم اپنے ہر کام میں ان سو کے سو کو جواب دہ ہے۔
          میرے خیال میں اسلامی حکومت یا مسلم حکومت کے تصور کی وضاحت کرنے کے لیے  کسی تفصیلی وضاحت کی اب ضرورت نہیں، بس اتنا کہنا کافی ہو گا کہ جب کوئی مسلمان حاکم حکومت قائم کرے اور قوانین اور حکومت کا طریقہ کار غیر انسانی و غیر اسلامی ہو تو وہ مسلم حکومت تو ہو سکتی ہے مگر اسلامی حکومت نہیں ہو سکتی۔ اسلامی حکومت وہ ہو گی جس میں اللہ کے بندوں پر اللہ کے قوانین نافذ ہوں گے اور حاکم بھی ان قوانین کا پابند ہو گا۔

نادانؔ

Sunday, 4 January 2015

طلب، طالب اور مطلوب

اس دنیا میں آیا ہر جاندار اپنے اندر طلب کا جذبہ رکھتا ہے اور کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی مطلوب کا طالب رہتا ہے،

کچھ طلبیں وقتی ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں یا پھر انکی متبادل آجاتی ہے، جبکہ کچھ طلبیں وقت کے

ساتھ شدت اختیار اختیار کرلیتی ہیں اور بعض اوقات طالب کی زندگی کا مقصد یا حاصل بن جاتی ہیں.

اب ضروری نہیں کہ ہر طالب کو مطلوب مل جاۓ یا کسی طالب کی ہر طلب پوری ہو، طلب پوری نہ ہونے کا ہرگز یہ

مطلب نہیں کہ طلب سچی نہیں تھی یا نیت میں کھوٹ تھی، دراصل کچھ چیزیں پسند آجانے پر طالب انکو اپنا مطلوب تو

بنا لیتا ہے مگر وہ اسکے لیے نقصان دہ ہوتی ہے یا پھر وہ کسی دوسرے طالب کا حق اور اسکے لیے مخصوص و محفوظ ہوتی

ہیں، ایسے میں طالب میں احساس شکست جنم لیتا ہے اور اگر یہ احساس اسکے اعصاب پر حاوی ہو کر اسکو اللہ پاک کی

ناشکری و شکوہ شکایت میں مپتلا کر دے تو اسے تباہی کی طرف لے جاتا ہے. جبکہ ایسے موقع شکرگزاری اور صبر و تحمل

کا مظاہرہ کرنے اور راضی بہ رضا رہنے والے کی طلب کو اسکی شدت کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ پاک کمال مہربانی سے


اپنی طرف پھیر لیتے ہیں اور پھر اسکا مطلوب صرف اور صرف محبوب حقیقی بن جاتا ہے

تحریر: طلحہ شہادت

Saturday, 3 January 2015

Human - انسان


کبھی آپ نے انسان  (Human) دیکھا ہے؟

آئیں آج اس مادی دنیا کی نظر سے انسان کا جائزہ لیتے ہیں۔ انسان ایک جاندار (Organism) ہے

 جوکہ کئی اعضائی نظاموں (Organ Systems) سے مل کر بنا ہے۔  ہر اعضائی نظام کئی اعضاء  (Organs)  

پر مشتمل ہے اور ہر عضو (Organ) مختلف پٹھوں  (Muscles)  اور ہڈیوں  (Bones)  سے بنا ہے۔   ہر ہڈی

 (Bone)  اور ہر پٹھہ  (Muscle)  بہت سے ریشوں  (Tissues)  سے بنا ہوتا ہے  (جوکہ مختلف اعضاء کی

مناسبت سے ایک جیسے بھی ہو سکتے ہیں اور مختلف بھی)  اور ریشے مشتمل ہوتے ہیں خلیوں  (Cells)  پہ  (جنہیں

جانداروں کی اکائی  (Base)  بھی کہا جاتا ہے)۔


اب خلیوں پہ آکر یہ تقسیم رک نہیں جاتی۔  حیاتیات  (Biology)  کے ماہرین کے مطابق خلیوں کی مختلف اقسام

  (Types)  ہوتی ہیں جوکہ اپنی ساخت  (Kind)  اور کام  (Function)  کے اعتبار سے مختلف اجزاء سے

بنے ہوتے ہیں جنہیں  (Organelles)  کہا جاتا ہے۔ خلیہ (Cell) کے مرکز  (Nucleus)  میں ایک خاص

قسم کا  (Organelle)  پایا جاتا ہے جسے کروموسوم (Chromosome)  کہا جاتا ہے،  انکی تعداد

 (Number)  ہر جاندار پودے،  پرندے اور جانور میں مختلف ہوتی ہے انسان میں  46  کروموسوم ہوتے ہیں

(کسی ایک کروموسوم کی کمی یا زیادتی انسان میں کوئی ناں کوئی خامی پیدا کر دیتی ہے) بہرحال یہ ایک بہت گہرا اور لمبا

موضوع ہے جس پر بہت تحقیق ہوئی  اور تحقیق کے بعد بندر کے انسان بننے کے ڈارونی نظریہ کا بھی رد کر دیا گیا۔


واپس آتے ہیں خلیہ (Cell)  کے اجزاء (Organelles)  پر۔  ہر جزو (Organelle)  مختلف اقسام کے

کیمیائی مرکبات (Chemical Compounds)  سے بنا ہوتا ہے اور ہر مرکب مختلف اقسام کے سالموں

 (Molecules)  سے بنتا ہے۔ ہر سالمہ (Molecule)  مختلف ذروں (Atoms)  سے بنتا ہے۔  اور بہت

عرصہ سے ماہرین کی رائے تھی کہ ذرہ (Atom)  اس کائنات (Universe)  میں موجود مادے (Matter)  

کی سب سے چھوٹی اکائی ہے (Base)  مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ذرہ مختلف بنیادی اجزا

 (Fundamental Particles)  سے بنتا ہے جن میں بنیادی اجزاء برقیہ (Electron) پروٹون (Proton)  

اور غیر چارج شدہ ذرہ (Neutron)  ہیں۔ بہت عرصہ تک ماہرین اس رائے (Concept)  پہ قائم رہے کہ ان

اجزاء کو مزید تقسیم (Divide)  نہیں کیا جاسکتا مگر بعد کی تحقیقات نے ثابت (Prove)  کیا کہ یہ مزید

 (Sub atomic particles)  میں تقسیم ہو سکتے ہیں  (اور قابل فخر بات یہ ہے کہ قران کریم نے  1400  



سال پہلے ہی ذرہ سے بھی چھوٹی اشیاء کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا)۔  آخر میں آکر کچھ نوری ذرات

 (Light Particles)  رہ جاتے ہیں اور کچھ طاقتی ذرات (Force Particles)  جب کہ ابھی مزید تحقیقات

جاری ہیں ۔

اب آپ ہی بتائیں کہ بس انسان کی تخلیق اس قدر پیچیدہ ہے تو باقی ساری کائنات کا کیا کہیں؟

اور اتنا مربوط اور منظم نظام کیا بغیر کسی چلانے والے کے چل سکتا ہے؟؟؟

یقینا کبھی نہیں!!

تو کہو ناں۔۔۔

أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له و أشهد أن محمد عبده و رسوله۔۔۔۔

تحریر: طلحہ شہادت نادانؔ