Tuesday, 1 September 2015

اب خوش ہو؟

کراچی کے ایک نجی سکول کے بچے اور بچی نے جنکی عمریں بمشکل سولہ اور سترہ سال کے لگ بھگ تھیں اپنی زندگیاں ختم کر لیں!
دونوں آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے اس عمر میں کہ جس عمر میں نام نہاد لبرلوں اور روشن خیالوں ہی کے مطابق بچوں کو شادی کا لفظ بھی لکھنا نہیں آتا!
ڈرامہ نگارو! گلوکارو! اداکاروں! ان سب کے پردہ دارو! حمایتکارو!
تم جو ہماری نسل کو تیاہ کرنے میں پیش پیش ہو!
ارے سن لیا تم نے؟ اب خوش ہو تم؟ پڑ گئی تمہارے کلیجے میں ٹھنڈ؟
دو اور ماؤں کی گودیں اجڑوا دیں! دو باپوں کے سروں میں خاک ڈلوا دی! صرف دو خاندانوں کا نہیں ظالمو! تم نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا!
ہاں تم ہی سے مخاطب ہوں! تم جو عشقیہ ڈرامے بناتے ہو! ہماری قوم کے نونہالوں کو اپنی نام نہاد روشن خیالی کا زہر پلاتے ہو! انہیں فلمیں بنا بنا کر دکھاتے ہو! انہیں غلیظ گانے سنواتے ہو! تعلیمی اداروں میں انکی معصوم جوانیوں کا استحصال کرتے ہو!
سن رہے ہو ناں؟ 
اب تم کیوں سنو گے! تمہیں تو بس سنانا آتا ہے! قوم کو غلاظت دکھانا آتا ہے! تم ہی سکھاتے ہو ناں بچوں کو کہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر محبت کیسے کرتے ہیں!
ارے یہ کونسی محبت ہے جو تم انکو سکھاتے ہو؟
ماں کی محبت کا کیا؟ باپ کی محبت کہاں؟ بہن بھائیوں کا پیار کدھر؟
آخر یہ کس نسل کی محبت ہے جو تم نے ہمارے بچوں کے اذھان میں گھسا دی ہے ظالمو؟َ
اب خوش ہو تم؟ مر گئے وہ! حرام موت مر گئے! اور یہ سوچ کر مر گئے کہ اگلے جنم میں ہم ساتھ ہوں گے!
کونسا جنم؟ کیسا جنم؟ 
جو آخرت میں ہوگا؟
ہاں وہی جنم! یاد رکھو میرے گلشن کے دشمنو! جب وہ جنم ہو گا تو صرف وہ معصوم ہی نہیں بلکہ پوری قوم تمہارا گریبان پکڑے گی اور تب ہم تم سے پوچھیں گے کہ ترقی دشمن تم تھے یا ہم؟ ملک دشمن تم تھے یا ہم؟ انسانیت دشمن تم تھے یا ہم؟
تم نے اس قوم میں مخلوط تعلیم کا زہر پھیلایا! اس قوم کو فحاشی کے نشے پر لگایا!
اور یہ بیچارے معصوم تمہارے پھیلائے ہوئے جال میں ایسے پھنسے کہ اپنے ساتھ اپنے ماں باپ اور پورے کے پورے خاندانوں کی زندگیوں کو اجاڑ گئے!
اب خوش ہو ناں؟
خوش ہو تم لبرلو! روشن خیالو! مغربی تہذیب کے اسیرو!
اگر نہیں ہو تو اب ہو جاؤ خوش۔ تمہارا مشن پورا ہوا اور تمہاری تنخواہ حلال ہوئی!
۔
۔
طلحہ شہادت نادانؔ


No comments: